مہنگائی سے پریشان عام لوگوں کو ایک اور جھٹکا لگ سکتا ہے۔ رائٹرز کے سروے کے مطابق اکتوبر میں ہندوستان کی خوردہ مہنگائی کی شرح ستمبر کے 5.54 فیصد سے بڑھ کر 5.93 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ وہیں غذائی مہنگائی کی شرح 8.20 فیصد ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کا براہ راست اثر سبزیوں، دودھ اور روزمرہ استعمال کی دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ مہنگائی میں اضافے کا دباؤ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے شرح سود سے متعلق فیصلوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
اکتوبر میں خوردہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کے امکان نے عام لوگوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ ستمبر میں مہنگائی کی شرح 5.54 فیصد درج کی گئی تھی، جو اکتوبر میں بڑھ کر 5.93 فیصد ہوسکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا دباؤ مسلسل برقرار ہے۔ اس میں سب سے بڑا کردار کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں کا مانا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے سروے کے مطابق غذائی مہنگائی ستمبر کے 7.74 فیصد سے بڑھ کر اکتوبر میں 8.20 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر عام لوگوں کی جیب پر پڑے گا۔ سبزیوں، دودھ، انڈوں اور خوردنی تیل جیسی ضروری اشیا مہنگی ہونے سے گھریلو بجٹ متاثر ہوسکتا ہے۔
ماہر اقتصادیات آکاش جندل کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں کمزور مانسون اور غذائی اشیا کی فراہمی پر اس کے اثرات شامل ہیں۔ بارش کی غیر مساوی تقسیم اور کئی علاقوں میں کم بارش ہونے سے زرعی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ اس کا اثر بازار میں غذائی اشیا کی دستیابی پر بھی پڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیاز کی قیمتیں سال کے آغاز سے اب تک تقریباً دوگنی ہوچکی ہیں۔ خوردہ مہنگائی کے اشاریے میں غذائی اشیا کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے۔ ایسے میں کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی مجموعی مہنگائی کی شرح کو اوپر پہنچا سکتا ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی ریزرو بینک آف انڈیا کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ آر بی آئی نے مہنگائی کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا ہے، جبکہ اس کی قابل قبول حد 2 سے 6 فیصد کے درمیان ہے۔اکتوبر میں خوردہ مہنگائی کی شرح 5.93 فیصد رہنے کا اندازہ ہے، جو مقررہ بالائی حد کے کافی قریب ہے۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں مالیاتی پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔ شرح سود میں اضافے کے خدشے سے ہوم لون، کار لون اور پرسنل لون لینے والوں کی پریشانیاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔
مہنگائی کا اثر صرف باورچی خانے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے خاندانوں کے ماہانہ اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہونے سے گھریلو بجٹ بگڑتا ہے۔ وہیں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اگر آر بی آئی شرح سود میں اضافہ کرتا ہے تو قرض لینے والوں پر ماہانہ قسط یعنی ای ایم آئی کا بوجھ بھی بڑھ سکتا ہے۔اس طرح عام آدمی کو دوہری پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ایک طرف مہنگا راشن اور دوسری طرف قرض کی بڑھتی ہوئی قسطیں۔ اب سب کی نظریں اکتوبر کے سرکاری مہنگائی کے اعداد و شمار اور آر بی آئی کے اگلے مالیاتی پالیسی فیصلے پر مرکوز ہیں۔
مہنگائی سے پریشان عام لوگوں کو ایک اور جھٹکا لگ سکتا ہے۔ رائٹرز کے سروے کے مطابق اکتوبر میں ہندوستان کی خوردہ مہنگائی کی شرح ستمبر کے 5.54 فیصد سے بڑھ کر 5.93 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔...
Source: Admin