Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

’پارلیمنٹ میں بغیر رخنہ پی ایم مودی اور راہل گاندھی کی بحث کا انتظام کیا جائے‘، راجیہ سبھا رکن کپل سبل کا مطالبہ

Admin
By Admin
Nov 07, 2026
Listen to Article Audio Narration
Loading narration audio... Playing • Tap to pause Tap play to listen to this story

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

’پارلیمنٹ میں بغیر رخنہ پی ایم مودی اور راہل گاندھی کی بحث کا انتظام کیا جائے‘، راجیہ سبھا رکن کپل سبل کا مطالبہ
’پارلیمنٹ میں بغیر رخنہ پی ایم مودی اور راہل گاندھی کی بحث کا انتظام کیا جائے‘، راجیہ سبھا رکن کپل سبل کا مطالبہ — November 07, 2026
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے گزشتہ دنوں پی ایم مودی کو ملک کے موجودہ ایشوز پر ’اوپن ڈیبیٹ‘ کا چیلنج پیش کیا تھا، حالانکہ پی ایم مودی کی طرف سے اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ پی ایم مودی سے راہل گاندھی فائنانشیل سسٹم، ہند-امریکہ معاہدہ، اڈانی کیس، ایپسٹین جیسے معاملوں پر کھلی بحث کرنا چاہتے تھے اور انھیں یہ آزادی دی تھی کہ مباحثہ کے لیے جگہ کا انتخاب وہ خود کریں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ تھا کہ وہ 5 منٹ میں پی ایم مودی کو غدارِ وطن ثابت کر دیں گے۔ اب اس معاملہ میں راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے تجویز پیش کی ہے کہ پارلیمنٹ میں پی ایم مودی اور راہل گاندھی کے درمیان مباحثہ کا انتظام کیا جانا چاہیے۔

دراصل کپل سبل نے ہفتہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں تجویز رکھی کہ پی ایم مودی اور راہل گاندھی کو پارلیمنٹ میں اہم ایشوز پر بغیر کسی رخنہ کے سیدھے سوال جواب کا موقع دینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر سے سوال پوچھیں، اور اپوزیشن کے لیڈر وزیر اعظم سے سوال پوچھیں۔ یہ بات چیت تب تک چلنی چاہیے جب تک ضروری ہو۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ دونوں لیڈران کو پارلیمنٹ میں آمنے سامنے بیٹھایا جائے اور اس دوران کسی دیگر رکن کو بولنے یا مداخلت کی اجازت نہ ہو۔

کپل سبل نے خاص طور سے ایس آئی آر، یعنی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی سے متعلق جاری تنازعات کو اس بحث میں شامل کرنے کی گزارش کی، لیکن اس معاملہ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر ماہ میں پارلیمنٹ میں امت شاہ نے کہا تھا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی پر دونوں ایوانوں میں بحث نہیں ہو سکتی، اور 5 نومبر کو اس پر بحث کے لیے خصوصی اجلاس طلب کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ انھوں نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں ایس آئی آر کو لے کر ایک عجیب بیان دیا تھا۔ جب اپوزیشن نے ایس آئی آر پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کیا، تو وزیر داخلہ نے پوچھا کہ پارلیمنٹ میں اس پر بحث کیوں ہونی چاہیے؟ یہ تو پوری طرح الیکشن کمیشن کا معاملہ ہے، جس سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر راہل گاندھی بحث کرنا چاہتے ہیں، تو انھیں خصوصی اجلاس طلب کرنے کے لیے وزیر اعظم کو خط لکھنا چاہیے۔ اچانک رخ میں یہ تبدیلی کیوں؟ اگر اب آپ اجلاس بلانے کے لیے تیار ہیں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایس آئی آر واقعی میں آپ کی ہی ذمہ داری ہے؟‘‘

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز راہل گاندھی نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا پارلیمنٹ میں دیا گیا پرانا بیان اور ایس آئی آر پر بحث کے لیے خصوصی اجلاس بلانے سے متعلق تازہ بیان کو دکھایا گیا ہے۔ 10 دسمبر 2025 کو وہ پارلیمنٹ میں کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’’میرا واضح ماننا ہے کہ ایس آئی آر پر ایوان میں بحث نہیں ہو سکتی۔ اگر بحث ہوتی ہے اور کچھ سوال کھڑے کیے جائیں گے تو اس کا جواب کون دے گا؟‘‘ حالانکہ 5 نومبر 2026 کو وہ ایک عوامی تقریب میں کہتے ہیں کہ ’’آپ بحث کے لیے نریندر مودی کو چیلنج پیش کرتے ہو! راہل جی، مودی جی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ایس آئی آر پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کو تیار ہیں۔‘‘

بہرحال، کپل سبل نے 7 نومبر کو کی گئی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ایم مودی اور راہل گاندھی کے درمیان پارلیمنٹ میں مباحثہ کے لیے راستہ ہموار کرنا چاہیے، کیونکہ 12 سالوں میں پہلی بار وزیر اعظم کو سوالوں کا جواب دینے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ ایک تاریخی مثال ہوگی، کیونکہ دنیا کی تاریخ میں ایسا کہیں نہیں ہوا ہے کہ حکومت کے کسی سربراہ نے 12 سالوں تک ایوان میں سوالوں کے جواب دینے سے پرہیز کیا ہو۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس بحث کو ایک تاریخی واقعہ بننا چاہیے، کیونکہ راہل گاندھی مستقل پی ایم مودی کو اپنے ساتھ کھلی بحث کا چیلنج پیش کر رہے ہیں۔

کپل سبل نے پارلیمنٹ میں پی ایم مودی اور راہل گاندھی کے آمنے سامنے اور بغیر رخنہ بحث کی ایک بڑی وجہ بھی میڈیا اہلکاروں کے سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں پارلیمانی بحثوں کو کس طرح کنٹرول کیا جاتا ہے۔ مائک بند کر دیے جاتے ہیں، اپوزیشن لیڈران کو بات رکھنے کے درمیان روکا جاتا ہے، اور ان کی آواز دبا دی جاتی ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’اگر حکومت ایس آئی آر پر بحث کرنا چاہتی ہے تو وزیر داخلہ کو پہلے ریکارڈ پر یہ قبول کرنا چاہیے کہ ’ایس آئی آر‘ کے لیے حکومت ذمہ دار ہے۔‘‘

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے گزشتہ دنوں پی ایم مودی کو ملک کے موجودہ ایشوز پر ’اوپن ڈیبیٹ‘ کا چیلنج پیش کیا تھا، حالانکہ پی ایم مودی کی طرف سے اس پر کوئی جواب نہی...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn