امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری خزانے سے چلائے جانے والے ٹی وی اشتہارات کے خلاف ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی نے مقدمہ دائر کر دیا۔
ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ نے کانگریس کی جانب سے مختص کیے گئے 20 ملین ڈالرز میں سے رقم سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کی جو آئینی اختیارات اور سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
جمہوریت پر نظر رکھنے والے ادارے کامن کاز نے بھی انہی اشتہارات کے خلاف الگ مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ عوامی خدمت کے اعلانات نہیں بلکہ سیاسی تشہیر ہے۔
ستمبر سے نشر ہونے والے ان اشتہارات پر اب تک 12 ملین ڈالرز سے زائد خرچ ہو چکے ہیں، 3 اشتہارات میں ٹرمپ کو امریکا کے ’نئے سنہری دور‘، کمیونزم کے خلاف مؤقف اور نام نہاد ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کے خلاف آخری معرکے کا ذکر کرتے دکھایا گیا ہے۔
رائٹرز اور اِپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق 86 فیصد امریکیوں نے سرکاری رقم سے ان اشتہارات کی تشہیر کو نامناسب قرار دیا جن میں 5 میں سے 4 فیصد ریپبلکن ووٹرز بھی شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اشتہارات کو ملک کی تشہیر قرار دیتے ہوئے ان کا دفاع کیا ہے، بعد ازاں شدید تنقید کے بعد ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ آئندہ اشتہارات کے لیے ٹیکس دہندگان کی رقم استعمال نہیں کی جائے گی تاہم انہوں نے پہلے سے خرچ کی گئی رقم واپس کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔
ریپبلکن جماعت کے بعض رہنماؤں نے بھی اشتہارات کے لیے سرکاری رقم کے استعمال پر اعتراض کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری خزانے سے چلائے جانے والے ٹی وی اشتہارات کے خلاف ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی نے مقدمہ دائر کر دیا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments