Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

سال بھر کی تھکن بھول کر آنکھوں میں آنسو لیے بھی جشن میں شامل سونا گاچھی

Admin
By Admin
Oct 08, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

سال بھر کی تھکن بھول کر آنکھوں میں آنسو لیے بھی جشن میں شامل سونا گاچھی
سال بھر کی تھکن بھول کر آنکھوں میں آنسو لیے بھی جشن میں شامل سونا گاچھی — October 08, 2026
سال بھر کی تھکن بھول کر آنکھوں میں آنسو لیے بھی جشن میں شامل سونا گاچھی
”میری درگا!“ نظم کی سطر سطر میں عورت کی بات اور نسوانی طاقت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ لیکن کہیں نہ کہیں زندگی کی اس وسیع اور مشکل جدوجہد کے میدان میں خوشی کی فصل نہیں اگ پاتی۔ ہر لمحہ طعنوں اور سماجی نفرت کے درمیان آج بھی جسم فروشی کے علاقے کی داستان گردش کرتی رہتی ہے۔ دیوی کی پوجا کے لیے اس علاقے کی مٹی درکار ہے یا نہیں، اس پر اگرچہ کافی بحث ہوتی رہی ہے، لیکن کئی دہائیوں سے یہاں کی خواتین اپنے گھروں کی مٹی کو چھو بھی نہیں پاتی ہیں۔ تنہائی میں صرف آسمان اور ہوا ان کے دکھ اور بے شمار تکلیفوں کی گواہ بنتے ہیں۔
تلوتما یعنی کولکاتا کے راستوں اور گلی کوچوں میں بکھرے جذبات جیسے جنوبی ایشیا کے اس بڑے جسم فروشی کے علاقے میں آکر جمع ہوجاتے ہیں۔
شمالی بنگال کے ایک ضلع سے غربت کے باعث، ایک صاحب کے گھر میں کام کرنے کی خاطر فلکی (نام تبدیل کیا گیا ہے) کولکاتا آئی تھیں۔ لیکن صاحب کے گھر میں کام کرنے کی نوبت نہیں آئی، بلکہ غربت کی مجبوری میں اسے دوسرے لوگوں کے استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں جسمانی تکلیف ناقابل برداشت تھی، لیکن آج وہ حالات کی عادی ہوچکی ہیں۔ ماں کے علاج سے لے کر بہن کی شادی تک، ہر موقع پر سونا گاچھی کی اس ”درگا“ کی جدوجہد کی کہانی موجود رہی ہے۔
فلکی کہتی ہیں، ”میں بنودنی ہوں، اپنی محنت کے بدلے کماتی ہوں۔ کون کیا کہتا ہے، اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بہت سے لوگ مجھے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن اب میں ان باتوں کی پروا نہیں کرتی۔“
وہ کہتی ہیں، ”جب میں بہت چھوٹی تھی تو گھر میں بہت تکلیف دیکھی۔ کھانے کو نہیں ملتا تھا، پوجا کے موقع پر نئے کپڑے ملنا تو دور کی بات، میلے میں جانے پر بھی کچھ خرید نہیں سکتی تھی۔ لیکن کچھ بڑی ہونے کے بعد کام کی تلاش میں کولکاتا آئی۔ اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، دانت بھینچ کر صرف پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے یہ کام اختیار کیا۔“
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ صرف غربت ہی نہیں، بلکہ سونا گاچھی کی گلیوں میں لوگ اپنی عادت کی وجہ سے بھی جمع ہوتے ہیں۔ فلکی کہتی ہیں، ”مجھے یہ بات بھی سننی پڑی ہے۔ لیکن کئی برسوں سے گھر نہیں گئی۔ ایسا لگتا ہے جیسے معاشرہ ہمیں اچھوت سمجھتا ہے۔ شاید انہیں لگتا ہے کہ ہمیں چھو لینے سے گناہ ہوجائے گا!“
پہلے پوجا کے دنوں میں روز آنکھوں کے آنسوو¿ں سے تکیہ بھیگ جاتا تھا۔ لیکن آج سب کچھ بدل گیا ہے۔ سپریم کورٹ اور کئی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد ”دربار“ کی جانب سے درگا پوجا نے ایک نئی شکل اختیار کی ہے۔ اب سونا گاچھی کی عوامی سڑک پر ہی درگا پوجا ہوتی ہے۔ خوب تفریح، انجلی اور جشن کا ماحول رہتا ہے۔
فلکی کہتی ہیں، ”یہیں ہماری پوری دنیا ہے۔ ’دربار‘ تھا، اسی لیے ہم یہ لڑائی لڑ پائے۔ وشاکھا لاسکر جیسے لوگ ہمارے ساتھ ہیں، اسی لیے ہم زندہ ہیں۔ پوجا کے دوران بچپن کی باتیں یاد آتی ہیں، لیکن سب کچھ بھول کر ماں سے کہتی ہوں، لوگ جو کہیں کہیں، اے ماں! انہیں بھی خوش رکھنا۔“”دربار“ کی سکریٹری وشاکھا لاسکر کہتی ہیں، ”خواتین کو کسی نہ کسی طرح مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں خاموش رہ کر سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کوئی پریشانی ہو تو ہم پولیس کو بلاتے ہیں۔ ہم احتجاج کرتے ہیں۔ ’دربار‘ ہمیشہ ان کے ساتھ ہے۔“

سال بھر کی تھکن بھول کر آنکھوں میں آنسو لیے بھی جشن میں شامل سونا گاچھی...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn