گورا ہونے والی کریم میں زہر! ڈرگ کنٹرول بورڈ نے 2 کریموں پر پابندی عائد کردی
”سات دن میں گورے ہوجائیں!“ اشتہارات میں چمک دمک دیکھ کر پوجا کے موقع پر بہت سے لوگ مختلف فیئرنس کریمیں خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ان میں ضرورت سے زیادہ دھاتیں اور خطرناک اسٹیرائڈز موجود ہونے کی وجہ سے طویل عرصے تک استعمال کرنے پر جلد پر مستقل سیاہ دھبے پڑ رہے ہیں۔ اسی دوران مرکزی ڈرگ کنٹرول بورڈ نے ایسی دو کریموں کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس سلسلے میں ہدایات مغربی بنگال ڈرگ کنٹرول بورڈ کو بھی بھیج دی گئی ہیں۔ ”گورے بیوٹی کریم“ اور ”چاندنی وائٹننگ کریم“ کا استعمال یا فروخت نہیں کیا جاسکتا۔
سینٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے بتایا ہے کہ ان کریموں کے علاوہ ملتے جلتے نام والی کسی بھی کاسمیٹک مصنوعات کا استعمال نہ کیا جائے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ دونوں کریمیں پڑوسی ملک پاکستان سے ہندوستان میں داخل ہوئی ہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ بنگال میں بھی ایسی بہت سی کریمیں دھڑلے سے فروخت ہورہی ہیں، جن میں خطرہ چھپا ہوا ہے۔
ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر کوشک لاہڑی نے بتایا کہ ان دونوں کریموں کے علاوہ بھی بازار میں ایسی بہت سی کریمیں موجود ہیں جو جلد کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق بازار میں ”فیئرنس کریم“ کے نام سے فروخت ہونے والی زیادہ تر مصنوعات دھوکے اور اشتہاری تشہیر پر منحصر ہیں۔ ان میں سے بیشتر میں اسٹیرائڈ ملایا جاتا ہے، جو جلد کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور ایک غیر سائنسی مرکب ہے۔ قانون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ گورا کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کریم کی تشہیر نہیں کی جاسکتی۔ اس کے باوجود ”سات دن میں گورا کرنے“ کا دعویٰ کرکے کریمیں فروخت کی جارہی ہیں، جو مکمل طور پر غیر اخلاقی ہے۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ بازار میں دستیاب گورا ہونے والی زیادہ تر کریموں میں اسٹیرائڈ موجود ہوتا ہے۔ ان میں میلاکیئر، میلالائٹ، ایکس ایل، میلبیسٹ، اسکن لائٹ، اسکن شائن، نوسکار اور یو بی فیئر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گورا ہونے کی شدید خواہش میں بہت سے لوگ چہرے پر لوبیٹ جی ایم، بیٹنوویٹ جی ایم اور نوفورس جی ایم بھی لگاتے ہیں۔ ڈاکٹر کوشک لاہڑی نے بتایا کہ یہ دراصل اینٹی بایوٹک، اینٹی فنگل اور طاقتور اسٹیرائڈ کا ایک خطرناک مرکب ہیں۔
گورا ہونے والی کریم کتنی خطرناک ہوسکتی ہے؟ نیشنل میڈیکل کالج کے شعب امراضِ جلد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ابھیشیک دے نے بتایا کہ ایسی کریموں میں اگر ضرورت سے زیادہ دھاتیں موجود ہوں تو طویل عرصے تک لگانے سے وہ جلد میں جمع ہونے لگتی ہیں۔ پوری جلد پر دھبے دار نشان بن جاتے ہیں۔ طبی اصطلاح میں اسے ”اوکرونوسس“ کہا جاتا ہے۔ یعنی جلد کے مخصوص ٹشوز میں زرد، بھورے یا سیاہی مائل رنگ کا غیر معمولی روغنی مادہ جمع ہونے لگتا ہے۔ یہ مسئلہ زیادہ تر گالوں، پیشانی اور گردن پر نظر آتا ہے۔ بعد میں ان دھبوں کو کسی بھی طریقے سے کم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
گورا ہونے والی کریم میں زہر! ڈرگ کنٹرول بورڈ نے 2 کریموں پر پابندی عائد کردی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments