پوجا سے پہلے ہی کیرالَم کی جنگی تکنیک میں ’آراستہ‘ آسنسول کی ’درگا باہنی‘
پوجا آتے ہی ہر طرف پنڈالوں میں روشنیوں کی چمک اور ڈھول کی آواز گونجنے لگتی ہے۔ لیکن پوجا کا جوش اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب شہر کی لڑکیاں اپنی طاقت کے بل پر خود کو مضبوط بناتی ہیں۔ دیوی درگا کی آمد کے ماحول میں آسنسول میں حقیقی زندگی کی ایک ’درگا باہنی‘ جنم لے رہی ہے۔
گزشتہ حکومت کے دور میں ریاست میں خواتین کے خلاف ظلم و زیادتی کے ایک کے بعد ایک واقعات سامنے آئے تھے۔ اس تاریک ماضی کے خوف کو پیچھے چھوڑ کر اب آسنسول کی لڑکیوں کو یہ اعتماد مل رہا ہے کہ وہ رات دس بجے بھی کوچنگ کلاس ختم کرکے بے خوف گھر واپس لوٹ سکتی ہیں۔ رکن اسمبلی کرشنندو مکھرجی کی منفرد پہل پر آسنسول انڈور اسٹیڈیم میں 10 روزہ مفت کلاری پائیتو تربیتی کیمپ شروع کیا گیا ہے، جو مہالیا کے مبارک موقع پر کامیابی کے ساتھ اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔
کیرالم سے آئے تجربہ کار ٹرینر 15 سے 45 سال کی سیکڑوں نوجوان خواتین اور لڑکیوں کو اس قدیم جنگی فن کی تربیت دے رہے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ ایس پونمبلَم نے اس تربیتی کیمپ کا افتتاح کیا۔ یہاں خالی ہاتھ مخالف کو قابو کرنے، جوائنٹ لاک سے لے کر خطرے کے وقت جسم کے ’مَر?م‘ یعنی پریشر پوائنٹس کا استعمال کرتے ہوئے مو¿ثر خود حفاظتی کی مکمل تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ مفت ناشتہ اور دوپہر کا غذائیت سے بھرپور کھانا بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔رکن اسمبلی کی اس منفرد پہل کو دیکھنے کے لیے آسنسول-درگا پور کے دیگر ارکان اسمبلی بھی اسٹیڈیم پہنچ رہے ہیں۔
رکن اسمبلی کرشنندو مکھرجی نے بتایا کہ ان کا ہدف اگلے پانچ برسوں میں شہر کی کم از کم 10 ہزار لڑکیوں کو کلاری پائیتو کی طاقت سے بااختیار بنانا اور ایک ناقابلِ شکست حفاظتی حصار قائم کرنا ہے۔درگا پوجا کے پنڈالوں کے ساتھ ساتھ آسنسول کے گھروں میں تیار ہونے والی یہ ’دس بھوجا‘ خواتین ثابت کر رہی ہیں کہ ان کی حفاظت اب کسی اور کے رحم و کرم پر منحصر نہیں ہوگی، بلکہ اپنی حفاظت کی کنجی اب خود ان کے ہاتھوں میں ہے۔
پوجا سے پہلے ہی کیرالَم کی جنگی تکنیک میں ’آراستہ‘ آسنسول کی ’درگا باہنی‘...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments