ایک بار پھر بنگال میں بھاگوت،سنگھ سربراہ شاخوں کا جائزہ لیں گے
ترنمول کانگریس کی 15 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب بنگال میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ اقتدار میں تبدیلی کے بعد پہلی مرتبہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بنگال پہنچے ہیں۔ ان کے بردوان میں سنگھ کے ایک پروگرام میں شرکت کرنے کی توقع ہے۔
سو سال مکمل کرنے والے آر ایس ایس کے تنظیمی ڈھانچے میں بھی ملک بھر میں بڑی تبدیلی ہونے والی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اپنے بنگال دورے کے دوران موہن بھاگوت تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔ تنظیم کو مزید نچلی سطح تک پھیلانا اس تنظیم نو کا ایک اہم مقصد سمجھا جا رہا ہے۔
صرف یہی نہیں، گزشتہ ایک سال سے آر ایس ایس کی جانب سے وسیع پیمانے پر عوامی رابطہ مہم بھی جاری تھی۔ سماج کے مختلف طبقات کے ساتھ رابطہ مسلسل بڑھانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ آر ایس ایس سربراہ عہدیداروں کے ساتھ اس بات پر بھی تبادلہ? خیال کر سکتے ہیں کہ یہ کام کس حد تک آگے بڑھا ہے۔ اس کے علاوہ بنگال میں سنگھ کی شاخوں کی تعداد کتنی بڑھی ہے، یہ بھی بھاگوت کی میٹنگ کے اہم موضوعات میں شامل ہو سکتا ہے۔ان کے ساتھ سنگھ کے سر کاریواہ یعنی جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبولے بھی آج بنگال پہنچے ہیں۔ دونوں مشرقی بردوان میں آر ایس ایس کے دفتر جائیں گے، جہاں وہ مغربی بنگال میں سنگھ کے عہدیداروں اور کارکنوں سے ملاقات کریں گے۔
تاہم میٹنگ ختم ہونے کے بعد آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے آج شام ہی واپس روانہ ہونے کی توقع ہے۔جنوبی بنگال کے پرانت پرچار پرمکھ بپلَو رائے نے بتایا کہ اب تک جس پرانت تنظیمی ڈھانچے کے ذریعے تنظیم کا کام چلایا جاتا تھا، اب اس کی جگہ ’سمبھاغ‘ تشکیل دیے جائیں گے۔ پورے ملک میں پرانتوں کی تعداد 44 سے بڑھا کر تقریباً 110 سمبھاغ بنانے کا منصوبہ ہے۔
فی الحال بنگال میں تین پرانت ہیں۔ نئے نظام کے تحت انہیں تقسیم کرکے شمالی بنگال، نودیپ، بردوان، میدنی پور اور کولکاتا—کل پانچ سمبھاغ کے ذریعے تنظیمی کام چلایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق بھاگوت دسمبر میں بھی ریاست کا دورہ کر سکتے ہیں۔ ان کی بریگیڈ میں منعقد ہونے والے ’لکش کنٹھوں کے گیتا پاٹھ‘ پروگرام میں شرکت متوقع ہے۔ وہ کئی معزز اور بااثر شہریوں سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔
ایک بار پھر بنگال میں بھاگوت،سنگھ سربراہ شاخوں کا جائزہ لیں گے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments