دھار: مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع تاریخی بھوج شالہ تنازع کے معاملے میں سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد جمعہ کو نئی انتظامی ترتیب کے تحت پہلی بار جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔ ضلع انتظامیہ نے مسلم برادری کے لیے سروے نمبر 612 پر نماز کی ادائیگی کا انتظام کیا تھا، جہاں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان 150 سے زائد افراد نے شدید بارش کے باوجود پرامن انداز میں نماز ادا کی۔ انتظامیہ کی جانب سے نماز کے لیے دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ نماز کے وقت تقریباً ڈھائی بجے مسلم برادری کے افراد مقررہ مقام پر پہنچے اور کسی ناخوشگوار واقعے کے بغیر نماز ادا کی۔ نماز کی تکمیل کے بعد ضلع انتظامیہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورے پروگرام کے دوران قانون و نظم کی صورت حال مکمل طور پر قابو میں رہی۔ جمعہ کی نماز سے قبل ضلع انتظامیہ اور مسلم برادری کے نمائندوں کے درمیان ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں سپریم کورٹ کے عبوری حکم پر عمل درآمد اور نماز کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے بعد انتظامیہ نے مقررہ مقام پر تمام ضروری سہولیات اور حفاظتی انتظامات مکمل کیے۔ مسلم فریق کی نمائندگی کرنے والی کمال مولا ویلفیئر سوسائٹی کے رکن عبدالصمد نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد کمال مولا مسجد سے متصل سروے نمبر 611، 612 اور 596 پر نماز کی اجازت دینے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم، فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے اور کسی کی مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچانے کے مقصد سے مسلم برادری نے بنیادی طور پر تجویز کردہ سروے نمبر 611 کے بجائے سروے نمبر 612 پر نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وجے ڈاور نے بتایا کہ جمعرات کی شام سے ہی مسلم برادری کے نمائندوں کے ساتھ مسلسل بات چیت جاری تھی تاکہ تمام انتظامات خوش اسلوبی سے مکمل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نماز کی پرامن ادائیگی کے لیے تقریباً 800 سے 900 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جبکہ اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے اہلکار بھی سکیورٹی ڈیوٹی پر موجود تھے۔ انتظامیہ نے بھوج شالہ احاطے اور اطراف کے علاقوں میں بیریکیڈنگ کی تھی، جبکہ شہر کے حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں اور نگرانی کرنے والی خصوصی ٹیموں کے ذریعے مسلسل نظر رکھی گئی۔ ایس ڈی ایم راج کمار ہلدر نے بتایا کہ انتظامیہ نے مکمل تیاری کے ساتھ انتظامات کیے تھے اور تقریباً 150 افراد نے سروے نمبر 612 پر پرامن طریقے سے نماز ادا کی۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد نماز کے مقام کو لے کر بعض مقامی باشندوں نے اعتراض بھی کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سروے نمبر 611 اور 612 کی زمین ان کی آبائی ملکیت ہے، جہاں وہ کاشتکاری کرتے ہیں اور اسی سے ان کے خاندان کی روزی روٹی وابستہ ہے۔ مقامی افراد نے پہلے ہی اس زمین پر نماز کی ادائیگی کی مخالفت کی تھی، تاہم جمعہ کے روز سخت سکیورٹی اور انتظامیہ کی نگرانی میں پورا پروگرام پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments