امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق افسر اور تفتیش کار جون نکسن نے سابق عراقی صدر صدام حسین سے کی گئی اپنی تفتیش سے متعلق ایسی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے جو اس سے قبل سامنے نہیں آئیں۔ یہ انکشافات العربیہ کے پروگرام "بلا تحفظ" کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سامنے آئے۔ نکسن 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے تعاقب کے عمل میں مرکزی انٹیلی جنس مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ ان معلومات کو جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا جن کی مدد سے امریکی اسپیشل فورسز صدام کی روپوشی کی جگہ تک پہنچیں اور انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ نکسن نے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع کروبر ڈٹینشن سینٹر کے ایک کمرے میں صدام کے ساتھ بالمشافہ تقریباً ایک مہینہ گزارا، جہاں انہوں نے سوال و جواب کے سیشنز کا ایک سلسلہ چلایا۔ اس کے نتیجے میں وہ ایسے نتائج تک پہنچے جنہیں انہوں نے امریکہ کی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے حیران کن قرار دیا تھا۔ پروگرام میں نکسن نے بتایا کہ سی آئی اے نے صدام حسین کی شخصیت کو سمجھنے میں غلطی کی اور ان کے بارے میں اس بات کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ وہ امورِ حکومت کی تمام تر تفصیلات پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ درحقیقت وہ اپنے اقتدار کے آخری سالوں میں روزمرہ کے معاملات میں کم ہی دخل اندازی کیا کرتے تھے اور اپنے معاونین پر زیادہ انحصار کرتے تھے۔ نکسن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے کے وقت صدام کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود نہیں تھے اور ان کا ماننا تھا کہ جنگ کا فیصلہ حتمی شواہد کی بنیاد پر نہیں بلکہ انٹیلی جنس کے غلط تخمینوں اور عراقی حکومت کا تختہ الٹنے کی سیاسی خواہش کے تحت کیا گیا تھا۔ نکسن نے مزید کہا کہ سابق امریکی صدر جارج بش کی انتظامیہ نے عراق کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی اور صدام حکومت کے القاعدہ سے تعلقات کے حوالے سے غیر دقیق معلومات پر انحصار کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ وائٹ ہاؤس نے ان معلومات کو چنا جنہوں نے جنگ کے فیصلے کی حمایت کی، جبکہ ان انٹیلی جنس جائزوں کو نظر انداز کر دیا جو اس بیانیے کے خلاف تھے۔ جہاں تک ذاتی پہلو کا تعلق ہے نکسن نے وضاحت کی کہ صدام حسین بغداد کے سقوط کے بعد "پیچیدگی کے بجائے سادگی" کی بدولت بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عراقی صدر اپنے سکیورٹی گارڈز کے پورے عملے کو تبدیل کرنے کے بعد چند محدود ساتھیوں کے ساتھ ایک عام گاڑی میں دارالحکومت سے نکل گئے تھے، جبکہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ان کے فرار کے کسی پیچیدہ منصوبے کی توقع کر رہے تھے۔ نکسن نے واضح کیا کہ صدام انتہائی راز داری اور شک کے مزاج کے حامل تھے اور وہ اپنے عزائم کو اپنے قریب ترین ساتھیوں سے بھی چھپاتے تھے۔ سی آئی اے کے سابق تفتیش کار کے نزدیک یہ خصوصیت دہائیوں تک ان کے اقتدار میں رہنے اور ان کے قریبی حلقے تک رسائی کو دشوار بنانے کی ایک اہم ترین وجہ تھی۔ نکسن نے سابق عراقی صدر کے بارے میں یہ بھی بتایا کہ وہ بغاوت کی کوششوں کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ناکام بنانے میں انتہائی ماہر تھے اور وہ ایسے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کر دیتے تھے جس کے بارے میں غیر وفاداری کا شک پیدا ہوتا تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ سرکاری اداروں میں حریفوں اور مخالفین پر نظر رکھنے کے لیے فعال سکیورٹی اداروں پر انحصار کرتے تھے۔
Source: Admin
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments