Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

سی آئی اے کے سابق افسر نے صدام حسین کی گرفتاری کے بعد تفتیش کے رازوں سے پردہ اٹھا دیا

سی آئی اے کے سابق افسر نے صدام حسین کی گرفتاری کے بعد تفتیش کے رازوں سے پردہ اٹھا دیا

امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق افسر اور تفتیش کار جون نکسن نے سابق عراقی صدر صدام حسین سے کی گئی اپنی تفتیش سے متعلق ایسی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے جو اس سے قبل سامنے نہیں آئیں۔ یہ انکشافات العربیہ کے پروگرام "بلا تحفظ" کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سامنے آئے۔ نکسن 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے تعاقب کے عمل میں مرکزی انٹیلی جنس مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ ان معلومات کو جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا جن کی مدد سے امریکی اسپیشل فورسز صدام کی روپوشی کی جگہ تک پہنچیں اور انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ نکسن نے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع کروبر ڈٹینشن سینٹر کے ایک کمرے میں صدام کے ساتھ بالمشافہ تقریباً ایک مہینہ گزارا، جہاں انہوں نے سوال و جواب کے سیشنز کا ایک سلسلہ چلایا۔ اس کے نتیجے میں وہ ایسے نتائج تک پہنچے جنہیں انہوں نے امریکہ کی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے حیران کن قرار دیا تھا۔ پروگرام میں نکسن نے بتایا کہ سی آئی اے نے صدام حسین کی شخصیت کو سمجھنے میں غلطی کی اور ان کے بارے میں اس بات کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ وہ امورِ حکومت کی تمام تر تفصیلات پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ درحقیقت وہ اپنے اقتدار کے آخری سالوں میں روزمرہ کے معاملات میں کم ہی دخل اندازی کیا کرتے تھے اور اپنے معاونین پر زیادہ انحصار کرتے تھے۔ نکسن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے کے وقت صدام کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود نہیں تھے اور ان کا ماننا تھا کہ جنگ کا فیصلہ حتمی شواہد کی بنیاد پر نہیں بلکہ انٹیلی جنس کے غلط تخمینوں اور عراقی حکومت کا تختہ الٹنے کی سیاسی خواہش کے تحت کیا گیا تھا۔ نکسن نے مزید کہا کہ سابق امریکی صدر جارج بش کی انتظامیہ نے عراق کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی اور صدام حکومت کے القاعدہ سے تعلقات کے حوالے سے غیر دقیق معلومات پر انحصار کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ وائٹ ہاؤس نے ان معلومات کو چنا جنہوں نے جنگ کے فیصلے کی حمایت کی، جبکہ ان انٹیلی جنس جائزوں کو نظر انداز کر دیا جو اس بیانیے کے خلاف تھے۔ جہاں تک ذاتی پہلو کا تعلق ہے نکسن نے وضاحت کی کہ صدام حسین بغداد کے سقوط کے بعد "پیچیدگی کے بجائے سادگی" کی بدولت بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عراقی صدر اپنے سکیورٹی گارڈز کے پورے عملے کو تبدیل کرنے کے بعد چند محدود ساتھیوں کے ساتھ ایک عام گاڑی میں دارالحکومت سے نکل گئے تھے، جبکہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ان کے فرار کے کسی پیچیدہ منصوبے کی توقع کر رہے تھے۔ نکسن نے واضح کیا کہ صدام انتہائی راز داری اور شک کے مزاج کے حامل تھے اور وہ اپنے عزائم کو اپنے قریب ترین ساتھیوں سے بھی چھپاتے تھے۔ سی آئی اے کے سابق تفتیش کار کے نزدیک یہ خصوصیت دہائیوں تک ان کے اقتدار میں رہنے اور ان کے قریبی حلقے تک رسائی کو دشوار بنانے کی ایک اہم ترین وجہ تھی۔ نکسن نے سابق عراقی صدر کے بارے میں یہ بھی بتایا کہ وہ بغاوت کی کوششوں کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ناکام بنانے میں انتہائی ماہر تھے اور وہ ایسے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کر دیتے تھے جس کے بارے میں غیر وفاداری کا شک پیدا ہوتا تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ سرکاری اداروں میں حریفوں اور مخالفین پر نظر رکھنے کے لیے فعال سکیورٹی اداروں پر انحصار کرتے تھے۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments