میڈرڈ: مراکش سے اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں مہاجرین کی غیر معمولی آمد کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیوٹا پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد بڑھ کر تقریباً 60 ہزار ہو گئی ہے، جبکہ اس دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 43 تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل ہسپانوی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 9 بتائی تھی، تاہم تازہ اعداد و شمار کے مطابق صورتحال مزید خراب ہوئی ہے اور جانی نقصان میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سیوٹا کے صدر خوان خیسوس ویواس نے کہا کہ شہر اس غیر معمولی دباؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں آنے والے مہاجرین کی تعداد شہر کی مجموعی آبادی کے تقریباً 70 فیصد کے برابر ہے، جبکہ سیوٹا کی کل آبادی تقریباً 83 ہزار 600 نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ بحران اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اسپین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سیوٹا یا میلیلا پہنچنے کی کوشش کے دوران سمندر میں روکے گئے مہاجرین کو فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد سرحدی انتظامات اور امیگریشن پالیسی پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے صورتحال کو اسپین پر ’حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام غیر قانونی مہاجرین کو ’جتنی جلد ممکن ہو‘ واپس مراکش بھیجا جائے گا۔ انہوں نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ دوسری جانب یورپی یونین کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیوٹا سے آنے والی تصاویر ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کسی کو بھی اپنے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی سرحدوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی ہجرت کے خطرناک راستوں کو فوری طور پر بند کرنا، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور یورپی قوانین کے مطابق غیر قانونی مہاجرین کی واپسی کا عمل تیز کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو یورپی کمشنروں کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور مراکش کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے اس بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہسپانوی حکام کے مطابق اب تک 25 ہزار سے زائد افراد رضاکارانہ طور پر واپس مراکش جا چکے ہیں، جبکہ باقی مہاجرین کے بارے میں قانونی اور انتظامی کارروائیاں جاری ہیں۔ واضح رہے کہ شمالی افریقہ میں واقع ہسپانوی علاقہ سیوٹا طویل عرصے سے یورپ پہنچنے کے خواہش مند مہاجرین کے لیے ایک اہم داخلی راستہ سمجھا جاتا ہے، اور حالیہ پیش رفت نے ایک بار پھر یورپ کی سرحدی سلامتی اور امیگریشن پالیسی کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
Source: Admin
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments