Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

"احتجاج پر پابندی سے سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے حالات بن سکتے ہیں!" لداخ کے نامور کارکن سونم وانگ چک کی مرکز کو سخت خبردار

Admin
By Admin
Oct 25, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

"احتجاج پر پابندی سے سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے حالات بن سکتے ہیں!" لداخ کے نامور کارکن سونم وانگ چک کی مرکز کو سخت خبردار
"احتجاج پر پابندی سے سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے حالات بن سکتے ہیں!" لداخ کے نامور کارکن سونم وانگ چک کی مرکز کو سخت خبردار — October 25, 2026
ممبئی / نئی دہلی: معروف ماحولیاتی کارکن اور تعلیمی ماہر سونم وانگ چک ) نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج حکومتوں کے لیے ایک اہم 'فیڈ بیک' اور 'پریشر والو' (دباؤ کم کرنے کا ذریعہ) کا کام کرتے ہیں، جس سے حکومتوں کو بہتر کارکردگی دکھانے کی ترغیب ملتی ہے۔ ممبئی میں آئی پی ایف فیسٹیول کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ جب لوگوں کو پرامن انداز میں اپنے جذبات کے اظہار کی اجازت نہیں دی جاتی، تو نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے ہولناک حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔
وانگ چک نے برطانیہ، ناروے اور سویڈن جیسے ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی پارلیمنٹ کے بالکل باہر مظاہروں کی اجازت ہوتی ہے تاکہ اقتدار میں بیٹھے لوگ عوام کی آواز سن سکیں۔ انہوں نے کہا:

"ہندوستان میں احتجاج کے لیے متعین کردہ جگہ جنتر منتر بھی پارلیمنٹ سے کافی دور ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پرامن احتجاج کرنے والوں کو اپنا پیغام پہنچانے دے۔ پیامبر کو مارا نہیں جاتا، بلکہ اس کے پیغام کو سمجھا جاتا ہے۔"
مرکزی حکومت کی جانب سے احتجاجی مظاہروں پر سخت پابندیوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وانگ چک نے کہا کہ پرامن سڑکوں پر مظاہرہ کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے۔ اگر حکومتیں عوام کے غصے کو پرامن طریقے سے نکلنے کا راستہ نہیں دیں گی، تو اس کا نتیجہ وہی ہوگا جو سری لنکا اور بنگلہ دیش میں ہوا، اور اس سے خود حکومت کا ہی نقصان ہوگا۔
داخلی سیکیورٹی کے لیے پیرامیلیٹری فورسز (نیم فوجی دستوں) کے مسلسل استعمال پر انہوں نے تشویش ظاہر کی۔ وانگ چک نے کہا کہ ان فورسز کو اپنے ہی ملک کے نوجوانوں اور شہریوں کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے سرحدوں کی حفاظت پر لگانا چاہیے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ جب سرحدوں سے توجہ ہٹتی ہے تو خاص طور پر سردیوں کے موسم میں چین آہستہ آہستہ لداخ کی سرحدوں میں گھس پیٹھ کر لیتا ہے، اور جب تک ہماری فورسز واپس لوٹتی ہیں تب تک کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر وزارتِ داخلہ (MHA) کو شہریوں پر توجہ مرکوز کرنی ہے تو سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری وزارتِ دفاع ( کے حوالے کر دینی چاہیے۔

2019ء میں جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے وانگ چک نے کہا کہ لداخ اس وقت ایک ایسی کالونی کی طرح بن گیا ہے جسے لندن کے بجائے نئی دہلی کا ایک وائسرائے چلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا:

"جس طرح میں مہاراشٹر کا چیف منسٹر بننے کے لیے سب سے نااہل شخص ہوں گا، بالکل اسی طرح دہلی سے آیا ہوا کوئی شخص لداخ کے نازک ماحول اور ضروریات کو بہتر طریقے سے نہیں سمجھ سکتا۔ لداخ کی تقدیر کا فیصلہ وہاں کے مقامی لوگوں اور بچوں کے مستقبل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے لداخیوں کو ہی کرنے دینا چاہیے۔"

ممبئی / نئی دہلی: معروف ماحولیاتی کارکن اور تعلیمی ماہر سونم وانگ چک ) نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج حکومتوں کے لیے ایک اہم 'فیڈ بیک' اور 'پریشر والو' (دباؤ کم کرنے کا ذریعہ) کا کام کر...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn