Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

’شاملی کے آیوش ملک نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا‘، الہ آباد ہائی کورٹ نے بحال کی شخصی آزادی

Admin
By Admin
Sep 17, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

’شاملی کے آیوش ملک نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا‘، الہ آباد ہائی کورٹ نے بحال کی شخصی آزادی
’شاملی کے آیوش ملک نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا‘، الہ آباد ہائی کورٹ نے بحال کی شخصی آزادی — September 17, 2026
لکھنؤ/شاملی: الہ آباد ہائی کورٹ نے شاملی کے دوا تاجر کے بیٹے آیوش ملک کی شخصی آزادی بحال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بالغ ہیں اور اپنی زندگی سے متعلق فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بی بی سی ہندی پر شائع رپورٹ کے مطابق، عدالت نے یہ فیصلہ آیوش ملک کی جانب سے دائر کی گئی درخواست (ہیبیس کارپس) پر سماعت کے دوران دیا۔

رپورٹ کے مطابق، جسٹس سندیپ جین نے کہا کہ ایک بالغ شخص کو اپنے ضمیر اور مرضی کے مطابق مذہب اختیار کرنے اور اپنی پسند کے شریکِ حیات کا انتخاب کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ عدالت نے آیوش کی شخصی آزادی پر پابندی جاری رکھنے کے لیے کوئی قانونی بنیاد نہ ہونے کی بات بھی کہی۔

رپورٹ کے مطابق، عدالت کے سامنے آیوش ملک نے بیان دیا کہ انہوں نے 2014 میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا اور اپنا نام محمد علی رکھا تھا۔ ان کے مطابق مذہب تبدیل کرنے کے فیصلے میں کسی قسم کا دباؤ، دھمکی، ناجائز اثر و رسوخ یا لالچ شامل نہیں تھا۔ انہوں نے چاندنی قریشی سے شادی کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔

عدالت نے قرار دیا کہ آیوش بالغ ہیں اور انہیں اپنی پسند کی جگہ پر، اپنی مرضی سے منتخب شخص کے ساتھ رہنے، اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے اور ازدواجی زندگی سے متعلق قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل ہے۔


خیال ہے کہ یہ معاملہ جون 2026 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب آیوش کے والد دیوراج ملک کی شکایت پر شاملی پولیس نے مبینہ طور پر سازش کے تحت مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے آیوش کی اہلیہ چاندنی قریشی، ان کے والد اسلام قریشی سمیت 9 نامزد افراد اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایک عالم دین کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔ چاندنی قریشی اور اسلام قریشی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دیوراج ملک نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بیٹے کو جائیداد حاصل کرنے کے مقصد سے چاندنی قریشی کے ذریعے مبینہ طور پر پھنسایا گیا اور اس کا مذہب تبدیل کرایا گیا۔ تاہم آیوش ملک نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے نام کوئی جائیداد نہیں ہے اور انہوں نے اپنے والد سے کہا ہے کہ جائیداد اپنی بیٹیوں اور والدہ کے نام کر دیں۔

جون کے آخر میں آیوش ملک کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی، جس میں وہ پوجا کرتے ہوئے اور ہندو مذہب میں واپسی کی بات کرتے دکھائی دیے تھے۔ ان کے والد نے ویڈیو کی تصدیق کی تھی، جبکہ آیوش نے بعد میں کہا تھا کہ جذباتی دباؤ کے باعث ان سے یہ ویڈیو بنوائی گئی تھی۔ ان کے مطابق وہ اپنی والدہ سے بہت محبت کرتے ہیں اور ان کی زندگی کا حوالہ دے کر انہیں ہندو مذہب میں واپسی کی ویڈیو جاری کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد آیوش کے والد دیوراج ملک نے کہا کہ عدالت کا حکم قابلِ قبول ہے۔

لکھنؤ/شاملی: الہ آباد ہائی کورٹ نے شاملی کے دوا تاجر کے بیٹے آیوش ملک کی شخصی آزادی بحال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بالغ ہیں اور اپنی زندگی سے متعلق فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn