واشنگٹن : امریکا ایران جنگ نے مہنگے تیل اور شرح سود کے باعث امریکی صارفین کو دہرے دباؤ میں ڈال دیا، جنگ کے براہ راست اثرات امریکی گھرانوں کے بجٹ تک پہنچ گئے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے معاشی اثرات امریکی صارفین کے بجٹ پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں ایک طرف تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب شرح سود بڑھنے سے گھروں اور گاڑیوں سمیت مختلف اشیا بھی مہنگی ہوگئی ہے۔
موڈیز اینالیٹکس کے مطابق 11 ستمبر تک جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک امریکی گھرانے پر اضافی مالی بوجھ تقریباً 1760 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
موڈیز اینالیٹکس کے چیف اکانومسٹ مارک زینڈی کے مطابق اس مجموعی بوجھ میں تقریباً 930 ڈالر توانائی کی بڑھتی قیمتوں کا حصہ ہے، جس میں پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔
موڈیز کے تخمینے کے مطابق امریکی صارفین جنگ شروع ہونے کے بعد مجموعی طور پر توانائی پر 121 ارب ڈالر سے زیادہ اضافی خرچ کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق گھریلو بجٹ پر پڑنے والے اس اضافی بوجھ میں تقریباً 425 ڈالر بلند شرح سود کے باعث شامل ہوئے ہیں، جبکہ مزید 405 ڈالر فوجی اخراجات میں اضافے سے متعلق ہیں۔
زینڈی کے مطابق فوجی اخراجات کا یہ بوجھ مستقبل میں زیادہ قومی قرض یا ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے صارفین تک منتقل ہوسکتا ہے۔
خام تیل کی قیمت
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا فوری اثر پٹرول پمپس پر نظر آتا ہے، رواں ہفتے امریکی خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ بعد میں عالمی مارکیٹ میں کچھ کمی بھی دیکھی گئی۔ 16 ستمبر کو برینٹ خام تیل تقریباً 105.12 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 101.72 ڈالر فی بیرل رہا۔
امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (ٹرپل اے ) کے مطابق 16 ستمبر کو امریکا میں ریگولر پٹرول کی قومی اوسط قیمت تقریباً 4.37 ڈالر فی گیلن تھی۔ 10 ستمبر کو قومی اوسط ایک ہفتے کے دوران 13 سینٹ بڑھ کر 4.27 ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جس کے پیچھے خام تیل کی بڑھتی قیمتیں اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کو اہم عوامل میں شمار کیا گیا۔
ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بھی امریکی صارفین کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے، ستمبر میں قومی سطح پر ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی اور بعض دنوں میں یہ 6.20 ڈالر سے بھی اوپر رہی۔ ڈیزل ٹرکوں اور تجارتی نقل و حمل میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت بڑھنے سے خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ بالآخر کاروباری اداروں کی لاگت بڑھا سکتا ہے اور بعض کمپنیاں یہ اضافی خرچ اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے صارفین تک منتقل کرسکتی ہیں، اس طرح پٹرول اور ڈیزل کی مہنگائی کا اثر صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ گروسری اور دیگر روزمرہ اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی ٹریژری کی 10 سالہ بانڈ ییلڈ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے قرض لینے کی لاگت بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے، اس صورتحال میں گھر خریدنے کے لیے رہن، گاڑیوں کے قرض اور دیگر کریڈٹ کی لاگت صارفین کے لیے مزید بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی صارفین فی الحال اپنی بچت استعمال کرکے اخراجات کا سلسلہ برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم بچت کا یہ سہارا مستقل نہیں ہوسکتا۔ اگر توانائی کی قیمتیں اور قرض لینے کی لاگت طویل عرصے تک بلند رہتی ہیں تو گھریلو بجٹ پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
یونیورسٹی آف مشی گن کے صارفین کے جذبات سے متعلق سروے میں بھی پٹرول کی قیمتوں پر تشویش میں اضافہ سامنے آیا۔ ستمبر 2026 میں سروے کے 29 فیصد سے کچھ زیادہ شرکا نے گیس کی قیمتوں کا ذکر کیا، جبکہ ستمبر 2024 اور 2025 میں یہ شرح بالترتیب تقریباً 12 اور 6 فیصد تھی۔
یوں امریکا ایران جنگ کے دوران توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور قرض لینے کی مہنگی لاگت امریکی صارفین کے لیے بیک وقت دو بڑے معاشی دباؤ بن گئے ہیں، جبکہ جنگ کی طوالت اور عالمی توانائی کی رسد کی صورتحال آئندہ مہینوں میں امریکی گھرانوں کے اخراجات پر مزید اثر انداز ہوسکتی ہے۔
واشنگٹن : امریکا ایران جنگ نے مہنگے تیل اور شرح سود کے باعث امریکی صارفین کو دہرے دباؤ میں ڈال دیا، جنگ کے براہ راست اثرات امریکی گھرانوں کے بجٹ تک پہنچ گئے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments