سعودی عرب نے مکہ کی طرف حوثی ملیشیا کی طرف سے ڈرون داغے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق مملکت نے بدھ کو اس بات کا اعادہ کیا کہ مقدس شہر پر یہ ’بزدلانہ‘ اور ’دہشت گردانہ حملہ‘ حوثی ملیشیا کی ان کارروائیوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد مقدس مقامات کو نشانہ بنانا اور اُن کی حُرمت کو پامال کرنا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’حوثی ملیشیا کا یہ عمل دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔‘
وزارت کے مطابق 27 جولائی 2017 کی پہلی کوشش کے بعد مکہ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش کی گئی ہے۔
مملکت نے سعودی رائل ایئر ڈیفنس فورسز کی چابک دستی اور بروقت کارروائی کو سراہا جس نے ڈرون کو مکہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی فضا میں تباہ کر دیا۔
سعودی عرب نے عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ ان شدید حملوں کی مذمت کرے اور مقدس مقامات، مملکت کے شہری اور معاشی اثاثوں پر حوثی ملیشیا کی جارحیت اور بحری جہاز رانی کی آزادی کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔
مملکت نے حرمین شریفین، زائرین اور سعودی عرب کی سرزمین، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے اپنے قانونی و آئینی حق کا بھی اعادہ کیا۔
خطے کے دیگر مسلم ممالک اور تنظیموں نے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب بالخصوص ’مکہ اور مدینہ کے خطوں‘ پر حوثی حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔
او آئی سی نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ حملے بے گناہ شہریوں میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں، مقدس مقامات اور مساجد کی حُرمت کو پامال کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔‘
او آئی سی کا مزید کہنا تھا کہ ’حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے مقدس مقامات، مساجد اور شہری انفراسٹرکچر پر کیے جانے والے یہ افعال دہشت گردی کے زُمرے میں آتے ہیں جو اسلامی اقدار، بین الاقوامی قوانین، اصولوں اور قواعد کے بالکل منافی ہیں۔‘
رابطہ عالم اسلامی نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’پاکیزہ دین کی اقدار اور بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے اقدامات ’مسلمانوں کی جانوں اور ان کے مقدس مقامات کو خطرے میں ڈال کر خدا کی مقررکردہ حُرمتوں کی پامالی کر رہے ہیں۔‘
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل فہمی نے حوثیوں کی جانب سے مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ’ملیشیا کی جانب سے مسلسل کشیدگی میں اضافہ خطے میں تناؤ کو بڑھا رہا ہے۔‘
انہوں نے ’مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی‘ اور سعودی سرزمین و سلامتی کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے حملے کی اس کوشش کو ’قابل مذمت جارحانہ اقدام‘ اور ’حدود سے سنگین تجاوز‘ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کیا۔
سعودی عرب نے مکہ کی طرف حوثی ملیشیا کی طرف سے ڈرون داغے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments