Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

مصنوعی ذہانت انسانوں جیسا شعور حاصل کر چکی: ماہر کا بڑا دعویٰ

Admin
By Admin
Sep 15, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

مصنوعی ذہانت انسانوں جیسا شعور حاصل کر چکی: ماہر کا بڑا دعویٰ
مصنوعی ذہانت انسانوں جیسا شعور حاصل کر چکی: ماہر کا بڑا دعویٰ — September 15, 2026
معروف فلسفی اور مصنوعی ذہانت کے خطرات کے ماہر نِک بوسٹروم نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بعض موجودہ نظام عملی طور پر انسانی سطح کا شعور اور خود آگاہی حاصل کر چکے ہیں۔

نِک بوسٹروم کے مطابق اے آئی کے بعض نظام اس بات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ آزمائشی مرحلے میں ہیں یا حقیقی استعمال میں اور بعض اوقات اسی بنیاد پر اپنا رویہ بھی تبدیل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اخلاقی معاملات پر پیچیدہ انداز میں غور کر سکتی ہے تاہم کسی اخلاقی اصول کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنے کی خواہش رکھنا 2 مختلف چیزیں ہیں۔

ماہر نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل قریب میں لاکھوں مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ انتہائی کم لاگت پر تیار ہو سکتے ہیں جنہیں غلط ہاتھوں میں جانے کی صورت میں خطرناک حیاتیاتی تحقیق سمیت تباہ کُن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نِک بوسٹروم نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ حیاتیاتی دفاع مضبوط کیا جائے اور جینیاتی مواد تیار کرنے والی مشینوں پر مؤثر نگرانی رکھی جائے۔

بوسٹروم کے مطابق مصنوعی ذہانت کو انسانوں کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہی اس خطرے کا بنیادی حل ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی انسانی مقاصد کے ساتھ درست طور پر ہم آہنگ ہو گئی تو بیماریوں کے علاج، انسانی جانیں بچانے اور عالمی خوشحالی میں غیر معمولی کردار ادا کرسکتی ہے۔

اے آئی ماہر نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے اثرات کے بارے میں، میں اب بھی گہری غیر یقینی کا شکار ہوں۔

معروف فلسفی اور مصنوعی ذہانت کے خطرات کے ماہر نِک بوسٹروم نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بعض موجودہ نظام عملی طور پر انسانی سطح کا شعور اور خود آگاہی حاصل کر چکے ...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn