معروف فلسفی اور مصنوعی ذہانت کے خطرات کے ماہر نِک بوسٹروم نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بعض موجودہ نظام عملی طور پر انسانی سطح کا شعور اور خود آگاہی حاصل کر چکے ہیں۔
نِک بوسٹروم کے مطابق اے آئی کے بعض نظام اس بات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ آزمائشی مرحلے میں ہیں یا حقیقی استعمال میں اور بعض اوقات اسی بنیاد پر اپنا رویہ بھی تبدیل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اخلاقی معاملات پر پیچیدہ انداز میں غور کر سکتی ہے تاہم کسی اخلاقی اصول کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنے کی خواہش رکھنا 2 مختلف چیزیں ہیں۔
ماہر نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل قریب میں لاکھوں مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ انتہائی کم لاگت پر تیار ہو سکتے ہیں جنہیں غلط ہاتھوں میں جانے کی صورت میں خطرناک حیاتیاتی تحقیق سمیت تباہ کُن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
نِک بوسٹروم نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ حیاتیاتی دفاع مضبوط کیا جائے اور جینیاتی مواد تیار کرنے والی مشینوں پر مؤثر نگرانی رکھی جائے۔
بوسٹروم کے مطابق مصنوعی ذہانت کو انسانوں کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہی اس خطرے کا بنیادی حل ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی انسانی مقاصد کے ساتھ درست طور پر ہم آہنگ ہو گئی تو بیماریوں کے علاج، انسانی جانیں بچانے اور عالمی خوشحالی میں غیر معمولی کردار ادا کرسکتی ہے۔
اے آئی ماہر نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے اثرات کے بارے میں، میں اب بھی گہری غیر یقینی کا شکار ہوں۔
معروف فلسفی اور مصنوعی ذہانت کے خطرات کے ماہر نِک بوسٹروم نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بعض موجودہ نظام عملی طور پر انسانی سطح کا شعور اور خود آگاہی حاصل کر چکے ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments