نئی دہلی، 09 اکتوبر:ملک کی پانچ اہم اسمبلی نشستوں (مغربی بنگال، تمل ناڈو اور پڈوچیری) پر حال ہی میں مکمل ہوئے ضمنی انتخابات کے جمعہ کے روز آئے نتائج میں برسرِ اقتدار جماعتوں نے عوام پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہے ۔
مغربی بنگال کی دونوں نشستوں نندی گرام اور ریجی نگر پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے غیر معمولی ووٹوں سے جیت حاصل کی اور تمل ناڈو میں پارٹیم 'تملگا ویتری کژگم' (ٹی وی کے ) نے جیت کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے دونوں نشستوں دھاراپورم اور مدورانتکم پر پرچم لہرایا تو پڈوچیری کی تھٹن چاوڑی سے 'آل انڈیا این آر کانگریس' (اے آئی این آر سی) نے اپنا قبضہ برقرار رکھا۔
مغربی بنگال کی نندی گرام اسمبلی نشست پر بی جے پی کی امیدوار ہاسی رانی رتھ نے ریکارڈ ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد ووٹوں کی تاریخی برتری سے شاندار جیت حاصل کی ہے ۔ ہاسی رانی رتھ کو ایک لاکھ 64 ہزار سے زائد ووٹ ملے ، جبکہ ان کے قریبی حریف کانگریس امیدوار ملن پردھان 41,674 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ۔ اس انتخاب میں ممتا ترنمول کانگریس نے کانگریس امیدوار کی حمایت کی تھی۔
بنگال کی دوسری اہم نشست، ریجی نگر میں بھی بی جے پی کے امیدوار شنکھرو سرکار نے بڑی جیت درج کی۔ مسلم اکثریتی آبادی والے ریجی نگر علاقے میں بی جے پی امیدوار کو ایک لاکھ 29 ہزار سے زائد ووٹ حاصل ہوئے ، جبکہ 'عام جنتا انین پارٹی' (اے جے یو پی) کے امیدوار غلام نبی آزاد تقریباً 54 ہزار ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے ۔ یہ پہلا موقع ہے جب ریجی نگر علاقے میں بی جے پی نے 75 ہزار سے زائد کی بڑی اکثریت سے جیت حاصل کر کے ترنمول کانگریس اور کانگریس کے روایتی ووٹ بینک میں براہِ راست سیندھ لگائی ہے ۔
تمل ناڈو میں اداکار وجے کی نو تشکیل شدہ پارٹی 'ٹی وی کے ' نے دھاراپورم نشست پر بڑی جیت درج کی ہے ۔ ان کے امیدوار پی ستیہ بھاما نے دراوڑ منیترا کژگم (ڈی ایم کے ) اور انا ڈی ایم کے کے امیدواروں کو پچھاڑتے ہوئے تقریباً 9,471 ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی۔ ان کی قریبی حریف ڈی ایم کے کی سوگنیا کو 57 ہزار 370 ووٹ ہی مل سکے ۔ سابق رکنِ اسمبلی ستیا بھاما کی اس جیت کے ساتھ ہی ٹی وی کے نے ریاست کی دراوڑ سیاست کے گڑھ میں اپنی مضبوط ہوتی گرفت کو دوبارہ ثابت کر دیا ہے ۔ ریاست کی مدورانتکم اسمبلی نشست پر بھی ٹی وی کے کا دبدبہ دیکھنے کو ملا۔ پارٹی امیدوار کے مرگتھم کمار ویل نے 74 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے اور قریبی حریف ڈی ایم کے کے پرتھامن سے 20 ہزار سے زائد ووٹوں سے آگے رہے ۔ انا ڈی ایم کے امیدوار کانتی سمپتھ کو 47 ہزار ووٹوں پر ہی قناعت کرنی پڑی۔
پڈوچیری کی تھٹن چاوڑی اسمبلی نشست پر ہوئے ضمنی انتخاب میں مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے وزیرِ اعلیٰ این رنگاسامی کی پارٹی آل انڈیا این آر کانگریس (اے آئی این آر سی) نے اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ اے آئی این آر سی امیدوار اشوک آنند نے اپنے قریبی حریف کانگریس کے ای ونائگم کو 8,482 ووٹوں سے شکست دی۔ اشوک آنند کو کل 13,358 ووٹ ملے ، جبکہ کانگریس امیدوار کو صرف 4,876 ووٹوں پر ہی قناعت کرنی پڑی۔
آسام کی نگا¶ں لوک سبھا نشست پر بی جے پی کے دیواشیش شرما نے 6 لاکھ 90 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے فیصلہ کن برتری حاصل کی۔ ان کے قریبی حریف امیدوار آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے سربراہ محمد بدرالدین اجمل کو تقریباً 5 لاکھ 38 ہزار ووٹ ملے ۔ اس طرح مسٹر شرما نے ڈیڑھ لاکھ سے بھی زائد ووٹوں کی برتری حاصل کی۔ کانگریس امیدوار سبامنی بورا تقریباً سوا لاکھ ووٹ ہی حاصل کر سکیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ نگا¶ں نشست پر چھ اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہوا تھا، جس میں 76.19 فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ یہ ضمنی انتخاب کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ پردیوت بوردولوئی کے استعفے اور ان کے بی جے پی میں شامل ہونے کے باعث نشست خالی ہونے کی وجہ سے کرایا گیا تھا۔
نئی دہلی، 09 اکتوبر:ملک کی پانچ اہم اسمبلی نشستوں (مغربی بنگال، تمل ناڈو اور پڈوچیری) پر حال ہی میں مکمل ہوئے ضمنی انتخابات کے جمعہ کے روز آئے نتائج میں برسرِ اقتدار جماعتوں نے عوا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments