Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

گاندھی جی: تحریک آزادی کے عظیم رہنما اور عدم تشدد و سچائی کے پیغامبر

Admin
By Admin
Oct 02, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

گاندھی جی: تحریک آزادی کے عظیم رہنما اور عدم تشدد و سچائی کے پیغامبر
گاندھی جی: تحریک آزادی کے عظیم رہنما اور عدم تشدد و سچائی کے پیغامبر — October 02, 2026
قومی تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما موہن داس کرم چند گاندھی عدم تشدد، سچائی، مساوات اور انسانیت کے علم بردار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ انہیں نہ صرف ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے حوالے سے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن، حریت اور عدمِ تشدد کے پیغام کے ایک مؤثر ترجمان کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

موہن داس کرم چند گاندھی، جنہیں محبت اور احترام سے ’باپو‘ اور ’مہاتما‘ کہا جاتا ہے، 2 اکتوبر 1869ء کو گجرات کے ساحلی شہر پوربندر میں ایک خوش حال گجراتی ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کرم چند گاندھی ریاستِ کاٹھیاواڑ کی مختلف ریاستوں میں دیوان کے منصب پر فائز رہے، جب کہ ان کی والدہ پُتلی بائی مذہبی مزاج رکھنے والی خاتون تھیں۔ 2 اکتوبر کو ہر سال ملک بھر میں ’گاندھی جینتی‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہندوستان کی قومی زندگی میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اقوامِ متحدہ نے بھی 2 اکتوبر کو ’عالمی یومِ عدمِ تشدد‘ قرار دیا ہے۔

گاندھی جی کی ابتدائی تعلیم پوربندر میں ہوئی، بعد ازاں وہ راج کوٹ کے الفریڈ ہائی اسکول میں زیر تعلیم رہے۔ ان کی میٹرک کی تعلیم 1887ء میں مکمل ہوئی۔ دورِ طالب علمی ہی سے ان کی شخصیت میں سچائی اور خود احتسابی کے اوصاف نمایاں ہونے لگے تھے۔ اُس دور کے بعض واقعات نے گاندھی جی کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے اور سچائی کے ساتھ ان کی وابستگی کو مزید مضبوط کیا۔ چنانچے اُس دور کا ایک واقعہ اس سلسلے میں خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔

1883ء کے لگ بھگ کا زمانہ تھا۔ چودہ سالہ موہن داس راج کوٹ کے اسکول میں زیرِ تعلیم تھے۔ ایک روز ہیڈ ماسٹر نے کلاس میں ان سے دریافت کیا کہ وہ ہفتے کے روز جمناسٹک کی کلاس سے غیر حاضر کیوں رہے۔ موہن داس نے عرض کیا کہ وہ اپنے والد کی تیمارداری میں مصروف تھے۔ ان کے پاس گھڑی بھی نہیں تھی اور بادلوں کی وجہ سے وقت کا درست اندازہ نہ ہو سکا، چنانچہ جب وہ اسکول پہنچے تو دوسرے طلبہ جا چکے تھے۔ ہیڈ ماسٹر نے ان کے جواب پر یقین نہیں کیا اور انہیں جھوٹا قرار دے دیا۔ ایک کم سن طالب علم کے لیے سچائی کے باوجود جھوٹ کا الزام سننا نہایت تکلیف دہ تھا۔ موہن داس اس الزام سے دل گرفتہ ہو گئے اور رو پڑے۔ انہیں اپنی سچائی اور بے گناہی پر یقین تھا، مگر وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر تھے کہ اپنے استاد کو اپنی بات کا یقین کیسے دلائیں۔

اس واقعے نے ان کے ذہن پر ایک گہرا نقش چھوڑا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ صرف سچا ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ سچائی کو ثابت کرنے کے لیے انسان کو محتاط بھی ہونا چاہیے۔ یہ احساس ان کی آئندہ زندگی کے لیے ایک اہم سبق بن گیا۔ دراصل ہر متحرک اور ذمہ دار انسان کے لیے یہ بات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ اپنے معاملات میں سچائی کے ساتھ ساتھ احتیاط، نظم اور ذمہ داری کو بھی ملحوظ رکھے۔ کیونکہ بعض اوقات انسان حق پر ہوتا ہے، مگر اس کی بے احتیاطی اسے اپنے حق کو ثابت کرنے میں دشواری سے دوچار کر دیتی ہے۔ گاندھی جی کی شخصیت میں سچائی محض ایک اخلاقی دعویٰ نہیں تھی بلکہ مسلسل خود احتسابی کا عمل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات بھی آگے چل کر ان کے بڑے اخلاقی تصورات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

1888ء میں وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلستان گئے۔ اپنی والدہ کی خواہش اور خاندانی مذہبی ماحول کے پیشِ نظر انہوں نے بیرونِ ملک جانے سے قبل گوشت، شراب اور بعض دوسری چیزوں سے پرہیز کا عہد کیا۔ لندن میں انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1891ء میں بیرسٹر بن کر ہندوستان واپس آئے۔ قانون کی تعلیم کے ساتھ ساتھ لندن میں ان کے مطالعے کا دائرہ بھی وسیع ہوا۔ مختلف مذاہب، فلسفوں اور اخلاقی تصورات کے مطالعے نے ان کی شخصیت میں غور و فکر، خود احتسابی اور نظم و ضبط کی عادت کو پختہ کیا۔ یہی اوصاف آگے چل کر ان کی عملی زندگی اور سیاسی جدوجہد کا اہم سرمایہ بنے۔

گاندھی جی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو خدمتِ خلق اور دوسروں کے لیے ایثار کا جذبہ تھا۔ ان سے منسوب ایک مشہور واقعہ ہے کہ سفر کے دوران ان کا ایک جوتا ریل کی پٹری پر گر گیا۔ انہوں نے فوراً دوسرا جوتا بھی اتار کر پٹری پر پھینک دیا، تاکہ جس شخص کو ایک جوتا ملے، اسے دوسرا بھی مل جائے۔ یہ واقعہ اپنی ظاہری سادگی کے باوجود ایثار اور دوسروں کے کام آنے کے اس تصور کی علامت بن گیا جسے گاندھی جی نے اپنی عملی زندگی میں نمایاں کیا۔

گاندھی جی کی عملی زندگی کا ایک فیصلہ کن باب جنوبی افریقہ سے شروع ہوا۔ 1893ء میں وہ ایک قانونی مقدمے کے سلسلے میں جنوبی افریقہ گئے۔ وہاں انہیں نسلی امتیاز اور ناانصافی کے ایسے تجربات سے گزرنا پڑا جنہوں نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ 31 مئی 1893ء کو پیٹرمارٹزبرگ ریلوے اسٹیشن پر انہیں فرسٹ کلاس کا ٹکٹ رکھنے کے باوجود صرف اس بنا پر ریل کے فرسٹ کلاس ڈبے سے باہر پھینک دیا گیا کہ وہ غیر سفید فام تھے۔ یہ واقعہ ان کی زندگی میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ گاندھی ہیریٹیج پورٹل بھی پیٹرمارٹزبرگ کے اسی واقعے کو ان کی آئندہ جدوجہد اور ستیاگرہ کے بیج پڑنے سے جوڑتا ہے۔

اس تجربے نے ان کے اندر ظلم اور نسلی امتیاز کے خلاف مزاحمت کا عزم پیدا کیا۔ لیکن ان کی مزاحمت کا راستہ تشدد نہیں بلکہ سچائی، اخلاقی قوت اور عدمِ تشدد تھا۔ اسی فکر نے آگے چل کر ’ستیاگرہ‘ کی شکل اختیار کی، جو جنوبی افریقہ میں ان کی جدوجہد کا اہم اصول بنا اور بعد میں ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں ایک مؤثر سیاسی و اخلاقی قوت ثابت ہوا۔

جنوبی افریقہ میں تقریباً 2 دہائیاں گزارنے کے بعد گاندھی جی جنوری 1915ء میں ہندوستان واپس آئے۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کا سفر کیا، عوامی زندگی کا مشاہدہ کیا اور ملک کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں وہ ہندوستان کی قومی تحریک کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہو گئے۔ عدمِ تشدد، سچائی، سول نافرمانی، عدمِ تعاون اور عوامی بیداری ان کی جدوجہد کے نمایاں ذرائع بنے۔ چمپارن، کھیڑا، احمد آباد، نمک مارچ اور بھارت چھوڑو تحریک جیسے مختلف مراحل میں ان کی قیادت نے قومی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ گاندھی جی بارہا قید و بند کی صعوبتوں سے گزرے، لیکن جیل بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کر سکی۔ ان کا یقین تھا کہ ظلم کے خلاف پُرامن مگر پُرعزم مزاحمت ایک ایسی اخلاقی قوت پیدا کر سکتی ہے جس کے سامنے جابرانہ اقتدار دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔

ہندوستان کی تحریکِ آزادی کسی ایک فرد یا جماعت کی جدوجہد کا نام نہیں تھی۔ گاندھی جی کے ساتھ مختلف نظریات، مذاہب، علاقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے قومی تحریک میں حصہ لیا۔ پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل، سی آر داس، خان عبدالغفار خان، مولانا محمد علی، پنڈت مدن موہن مالویہ، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، مولانا ابو الکلام آزاد، حکیم اجمل خاں، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عبدالباری، سروجنی نائیڈو اور ڈاکٹر راجندر پرساد سمیت متعدد شخصیات اس جدوجہد سے وابستہ رہیں۔

اس ضمن میں ہندوستان کے مسلمانوں اور ان کے مذہبی، سیاسی و سماجی اداروں کے تاریخی کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے اور متعدد مسلم تنظیموں نے قومی تحریکِ آزادی میں فعال حصہ لیا۔ جمعیت علمائے ہند، مجلسِ احرار، مومن کانفرنس، خدائی خدمت گار تحریک اور شیعہ پولیٹیکل کانفرنس سمیت مختلف تنظیموں اور رہنماؤں نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیا۔ یہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کی ایک اہم خصوصیت تھی کہ اس میں مختلف مذہبی اور سماجی طبقات کے افراد نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا اور قربانیاں پیش کیں۔

قومی تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما موہن داس کرم چند گاندھی عدم تشدد، سچائی، مساوات اور انسانیت کے علم بردار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ انہیں نہ صرف ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے حوالے ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn