زمین کے براعظموں کی تعداد سے متعلق ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف ڈربی سے وابستہ ماہرِ ارضیات ڈاکٹر جارڈن فیتھیئن کا کہنا ہے کہ ممکن ہے شمالی امریکا اور یوریشیا اب بھی ارضیاتی اعتبار سے ایک ہی براعظم کا حصّہ ہوں۔
ڈاکٹر جارڈن فیتھیئن اور ان کی ٹیم نے بحرِ اوقیانوس کے نیچے موجود تقریباً 2 ہزار کلومیٹر طویل زیرِ سمندر پہاڑی سلسلے کا جائزہ لیا، جو کہ شمالی امریکا اور یوریشیا کی ٹیکٹونک پلیٹس کے درمیان واقع ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق یہ پہاڑی سلسلہ گرین لینڈ سے آئس لینڈ کے راستے اسکاٹ لینڈ تک پھیلا ہوا ہے۔
روایتی نظریہ یہ ہے کہ شمالی امریکا اور یوریشیا کی ٹیکٹونک پلیٹس تقریباً 5 کروڑ 50 لاکھ سال قبل ایک دوسرے سے جدا ہو گئی تھیں، تاہم اب محققین نے زیرِ سمندر پہاڑی سلسلے کے مختلف مقامات پر ایسے شواہد دریافت کیے ہیں جہاں دونوں پلیٹس اب بھی آپس میں جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
ان شواہد کی بنیاد پر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ارضیاتی نقطۂ نظر سے شمالی امریکا اور یوریشیا کو اب بھی ایک براعظم تصور کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شمالی امریکا اور یوریشیا ماضی میں ایک ہی عظیم براعظم پینجیا کا حصہ تھے۔
یہ عظیم براعظم تقریباً 20 سے 25 کروڑ سال پہلے موجود تھا جس کے بعد وقت کے ساتھ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس کی حرکت نے مختلف براعظموں کو الگ شکل دی۔
محققین کی دریافت براعظموں کی تشکیل اور ان کی جغرافیائی حدود سے متعلق مزید تحقیق کی راہیں کھول سکتی ہے۔
اس دعوے کو سمجھنے کے لیے ارضیاتی شواہد اور روایتی براعظمی تقسیم کے درمیان فرق کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ یوریشیا براعظموں یورپ اور ایشیاء پر مشتمل زمین کے حصے کو کہا جاتا ہے۔
زمین کے براعظموں کی تعداد سے متعلق ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف ڈربی سے وابستہ ماہرِ ارضیات ڈاکٹر جارڈن فیتھیئن کا کہنا ہے کہ ممکن ہے شمالی امریکا اور یوریشیا ...
Source: Admin