پاکستان کے صوبہ پشاور میں جمعرات کی صبح دیر کالونی میں واقع نجی سکول الخیر ایجوکیشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد 34 ہو چکی ہے۔ ان میں چھ سے 14 سال عمروں کے 33 بچے اور 25 سالہ ٹیچر ثمرین بی بی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ سکول کے پرنسپل کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سکول کی عمارت کمزور تھی جس کے باعث یہ حادثہ ہوا۔
جائے وقوعہ پر موجود ریسکیو حکام اور بی بی سی کے نامہ نگار بلال احمد کے مطابق بظاہر سکول میں تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں اور یہاں کوئی پکا لینٹر نہیں تھا۔
پشاور کے ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سکول کی عمارت خستہ حال تھی، چھتیں طلبہ کا وزن برداشت نہیں کر سکیں اور گر گئیں۔
پشاور میں سکول کی چھت گِرنے سے ہلاک ہونے والے 16 بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
اجتماعی نماز جنازہ پشاور میں سپیرئر سائنس کالج کے ساتھ واقع گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ جمعرات کی صبح پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں مجموعی طور پر 34 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں 33 طلبہ جبکہ ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔
مرنے والے 33 بچوں کی عمریں چھ سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان کے صوبہ پشاور میں جمعرات کی صبح دیر کالونی میں واقع نجی سکول الخیر ایجوکیشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد 34 ہو چکی ہے۔ ان میں چھ سے 14 سال عمروں کے 33...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments