Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

منوج کو ’ووٹ چور‘ کہنے کے باوجود ثبوت پیش نہیں کیے! عدالت کا مہوا کو 24 گھنٹے کے اندر پوسٹ حذف کرنے کا حکم

Admin
By Admin
Oct 15, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

منوج کو ’ووٹ چور‘ کہنے کے باوجود ثبوت پیش نہیں کیے! عدالت کا مہوا کو 24 گھنٹے کے اندر پوسٹ حذف کرنے کا حکم
منوج کو ’ووٹ چور‘ کہنے کے باوجود ثبوت پیش نہیں کیے! عدالت کا مہوا کو 24 گھنٹے کے اندر پوسٹ حذف کرنے کا حکم — October 15, 2026
منوج کو ’ووٹ چور‘ کہنے کے باوجود ثبوت پیش نہیں کیے! عدالت کا مہوا کو 24 گھنٹے کے اندر پوسٹ حذف کرنے کا حکم
مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر ریاست کے چیف سکریٹری منوج اگروال کو سوشل میڈیا پر ’ووٹ چور‘ کہنے والی مہوا موئترا کے تبصرے پر کولکاتا کی علی پور عدالت نے پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ کرشن نگر کی رکن پارلیمنٹ مہوا ریاست کے سابق چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے خلاف سوشل میڈیا پر کیے گئے اپنے تبصروں کے حق میں ثبوت پیش نہیں کر سکیں۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ حکم نامہ ملتے ہی ان تبصروں کو حذف کرنا ہوگا۔
منوج نے مہوا کے تبصروں پر انہیں قانونی نوٹس بھیجا تھا اور ہرجانے کے طور پر 10 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔
جمعرات کو علی پور عدالت نے کہا کہ مہوا چیف سکریٹری کے خلاف ہتک آمیز تبصرے کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کوئی نئی پوسٹ شیئر نہیں کر سکتیں۔ وہ اس معاملے سے متعلق اپنی کسی پرانی پوسٹ کو دوبارہ بھی شیئر نہیں کر سکیں گی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ مہوا نے 3 اکتوبر اور 6 اکتوبر کو جو پوسٹس کی تھیں، انہیں حکم نامہ ملنے کے 24 گھنٹے کے اندر حذف کرنا ہوگا۔
عدالت نے مہوا کو نوٹس جاری کرکے یہ وضاحت دینے کی ہدایت بھی دی ہے کہ ان کے تبصروں پر عائد پابندی برقرار کیوں نہ رکھی جائے۔
عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ مہوا کی پوسٹس میں صرف ایس آئی آر پر تنقید نہیں کی گئی، بلکہ منوج کے خلاف غیر قانونی کام کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ مہوا ان الزامات کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکیں۔ اس لیے ابتدائی طور پر ان الزامات کی بنیاد پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایس آئی آر جیسے عوامی مفاد کے معاملے پر بحث کی جا سکتی ہے اور سرکاری فیصلوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن تنقید کے نام پر کسی فرد کو ذاتی طور پر نشانہ بنا کر اس کی توہین نہیں کی جا سکتی۔
اس مقدمے کی اگلی سماعت 5 جنوری کو ہوگی۔
منوج کا الزام ہے کہ مہوا نے سوشل میڈیا پر انہیں ’ووٹ چور‘ کہا تھا۔ مہوا کا مو¿قف تھا کہ لاکھوں جائز بنگالی ووٹروں کو غیر قانونی طور پر حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کے لیے منوج ذمہ دار ہیں۔
سوشل میڈیا پر مہوا نے لکھا تھا، ”اب ملک آپ کا پیچھا کرے گا۔ آپ کو چھٹکارا نہیں ملے گا۔“
منوج کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ سابق چیف الیکٹورل آفیسر نے نہ تو ووٹ چوری کی، نہ انتخابی دھاندلی کی اور نہ ہی کوئی غیر قانونی کام کیا۔ ان کا کام قانون اور الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق سرکاری ذمہ داریاں ادا کرنا تھا۔

منوج کو ’ووٹ چور‘ کہنے کے باوجود ثبوت پیش نہیں کیے! عدالت کا مہوا کو 24 گھنٹے کے اندر پوسٹ حذف کرنے کا حکم...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn