گرجا گھروں پر حملوں کے معاملے میں عیسائی تنظیم نے آر ایس ایس سربراہ بھاگوت سے مداخلت کی اپیل کی
مغربی بنگال کی عیسائی حقوق کی تنظیم بنگیا کرسچیا پریسیبا (بی سی پی) نے گرجا گھروں اور اجتماعی دعائیہ اجتماعات پر مبینہ حملوں کے معاملے میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ تنظیم نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ تحقیقات کا حکم دینے میں ناکام رہی ہے۔
تنظیم کے بانی اور جنرل سکریٹری ہیرود ملک نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت سے بار بار اپیل کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد تنظیم کو آر ایس ایس سربراہ سے رجوع کرنا پڑا۔
ملک نے کہا، ”سچائی سامنے لانے کے لیے غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ہماری بار بار کی گئی اپیلوں کو ریاستی حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔ اس کے برعکس، حکمراں جماعت اور انتظامیہ کی بعض اہم شخصیات نے ایک انتہائی چھوٹی اقلیت کے خلاف کیے گئے ان غیر قانونی اقدامات کو محض ’عوامی احتجاج‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔“
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اور مقامی انتظامیہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے بالواسطہ طور پر عیسائی برادری کو ہراساں کرنے کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
بدھ کے روز موہن بھاگوت کو بھیجے گئے خط میں بی سی پی نے ان سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے اور اپنا مو¿قف پیش کرنے کا موقع دینے کی اپیل کی۔ تنظیم نے لندن اور نیویارک کے حالیہ دوروں کے دوران سماجی ہم آہنگی سے متعلق بھاگوت کے پیغامات کا حوالہ بھی دیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ سماجی ہم آہنگی پر بھاگوت کے زور اور مغربی بنگال میں عیسائیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس کے درمیان واضح تضاد ہے۔
بی سی پی نے دعویٰ کیا کہ جبری مذہب تبدیلی کے بے بنیاد الزامات کو بنیاد بنا کر گرجا گھروں پر حملے، توڑ پھوڑ اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی کے واقعات بار بار پیش آ رہے ہیں۔
تنظیم نے ان الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے بھاگوت سے مداخلت کی اپیل کی۔ اس کا کہنا ہے کہ تشدد کے ذمہ دار افراد کو اپنے اقدامات کا جواز پیش کرنے کے لیے مذہب کی آڑ لینے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔بی سی پی نے امید ظاہر کی کہ بھاگوت کی مداخلت سے مغربی بنگال سمیت دیگر ریاستوں میں بھی عیسائی برادری کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
گرجا گھروں پر حملوں کے معاملے میں عیسائی تنظیم نے آر ایس ایس سربراہ بھاگوت سے مداخلت کی اپیل کی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments