Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

مہوا کی سکیورٹی کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے شاہ کی وزارت کو فریق بنانے کا حکم دیا

Admin
By Admin
Oct 15, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

مہوا کی سکیورٹی کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے شاہ کی وزارت کو فریق بنانے کا حکم دیا
مہوا کی سکیورٹی کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے شاہ کی وزارت کو فریق بنانے کا حکم دیا — October 15, 2026
مہوا کی سکیورٹی کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے شاہ کی وزارت کو فریق بنانے کا حکم دیا
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کی سکیورٹی سے متعلق مقدمے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے مرکزی وزارت داخلہ کو فریق بنانے کی ہدایت دی ہے۔ بدھ کے روز جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے حکم دیا کہ 15 اکتوبر، جمعرات تک وزارت داخلہ کو متعلقہ مقدمے میں فریق بنانا ہوگا۔
کرشن نگر کی رکن پارلیمنٹ نے الزام لگایا تھا کہ ان کے لوک سبھا حلقے میں بار بار شرپسند عناصر انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ کبھی پارٹی دفتر میں موجودگی کے دوران ان پر انڈے پھینکے گئے، تو کبھی گاڑی سے سفر کرتے وقت انہیں ہراساں کیا گیا۔ اس سے پہلے ہائی کورٹ نے کرشن نگر کی رکن پارلیمنٹ کو ان کے لوک سبھا حلقے میں پولیس سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، اس کے باوجود مہوا کو حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
اب مہوا نے درخواست دی ہے کہ ان کے لیے چوبیس گھنٹے سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں۔ عدالت نے مہوا کے ایک دوسرے مقدمے میں ان کے پارلیمانی حلقے میں آمد و رفت کے دوران دو سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس مقدمے میں عدالت نے گزشتہ 7 اکتوبر کو ریاستی حکومت سے اس کا مو¿قف معلوم کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس نے کہا تھا کہ ریاست کو یہ بتانا ہوگا کہ کسی رکن پارلیمنٹ کی سکیورٹی کے لیے کیا ضابطے ہیں۔
بدھ کے روز کلکتہ ہائی کورٹ میں ریاست کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل (اے اے جی) راج دیپ مجمدار نے اس سلسلے میں رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ترنمول رکن پارلیمنٹ مہوا کو وزارت داخلہ اور اراکین پارلیمنٹ کے لیے مقررہ ضابطوں کی کتاب ’یلو بک‘ کے مطابق سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ یلو بک کے ضوابط کے تحت ہی انہیں ایکس زمرے کی سکیورٹی دی گئی ہے۔
اس کے جواب میں مہوا کے وکیل ارک ناگ نے دلیل دی کہ ان کی موکلہ کی سکیورٹی کے لیے ایک ذاتی سکیورٹی افسر (پی ایس او) ضرور تعینات ہے، لیکن وہ ہر وقت مہوا کے ساتھ موجود نہیں رہتا۔ حملے کے بعد رکن پارلیمنٹ نے اضافی سکیورٹی کی درخواست کی ہے۔ وزارت داخلہ اس معاملے میں کارروائی کر سکتی ہے، اس لیے امیت شاہ کی وزارت کو بھی مقدمے میں فریق بنانے کی اجازت دی جائے۔
دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد جسٹس نے مہوا کے وکیل کی درخواست منظور کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو مقدمے میں فریق بنانے کی اجازت دے دی۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت 2 دسمبر کو ہوگی۔

مہوا کی سکیورٹی کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے شاہ کی وزارت کو فریق بنانے کا حکم دیا...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn