میٹا کی بربریت‘: دہلی میں پولیس کارروائی کی ویڈیوز پر سوشل میڈیا کی پابندیاں، صارفین کا الزام
دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس کی مبینہ بربریت کو دکھانے والی ویڈیوز کو میٹا کی ملکیت والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندیوں کا سامنا ہے۔ صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے شکایت کی ہے کہ ان کی فیڈ سے ویڈیوز غائب ہو رہی ہیں اور بھارت میں بعض اکاو¿نٹس کو بلاک کیا جا رہا ہے۔
یہ شکایات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب احتجاجی مظاہروں کے آس پاس موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے پر الگ قانونی تنازع جاری ہے۔ جمعرات کو مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری گووند موہن نے توہینِ عدالت کے ایک معاملے میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگی۔
سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے حلف نامے میں موہن نے کہا کہ مرکزی حکومت کو دہلی پولیس کی جانب سے ایک دن کے لیے، یعنی 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک، موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کی درخواست موصول ہوئی تھی۔
وزارت داخلہ کے سکریٹری کے مطابق، رئیسینا ہِل کے چار کلومیٹر کے دائرے میں 9 اکتوبر کی رات 10 بجے سے 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل رکھی گئی تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حکم کا اطلاق وائی فائی، براڈ بینڈ یا انٹرنیٹ کی دیگر غیر موبائل خدمات پر نہیں تھا۔
انہوں نے کہا، ”میں عرض کرتا ہوں کہ محدود مدت اور متعین جغرافیائی علاقے میں، متعلقہ قانونی تحفظات کے تابع، انٹرنیٹ خدمات کی معطلی ایک تسلیم شدہ اقدام ہے، جس پر مناسب حالات میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے غور کیا جا سکتا ہے۔“
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیہ باگچی پر مشتمل بنچ کو جمعرات کے روز اس معاملے کی سماعت کرنی تھی۔
دریں اثنا، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ دہلی پولیس کے ایک افسر کے خلاف خاتون صحافی کی جانب سے لگایا گیا الزام ”انتہائی سنگین“ ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ خاتون صحافی کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔ خاتون صحافی کی جانب سے چھیڑ چھاڑ کی شکایت پر غور کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں کے مطابق، دہلی پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کو دکھانے والی متعدد ویڈیوز کو میٹا کے زیرِ ملکیت پلیٹ فارمز، بشمول فیس بک اور انسٹاگرام، پر محدود کر دیا گیا ہے۔ بھارت میں بعض اکاو¿نٹس کو بلاک یا ان پر پابندیاں عائد کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ایک صحافی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے الزام لگایا، ”پولیس کی بربریت کے بعد اب میٹا کی بربریت۔“ صحافی کا دعویٰ تھا کہ احتجاج کی کوریج کرنے والے لوگوں کے اکاو¿نٹس کو محدود کیا جا رہا ہے۔
آلٹ نیوز نے بھی پولیس کی مبینہ بربریت کو دکھانے والے مواد پر پابندیوں کی اطلاع دی ہے۔ آبزرور پوسٹ ہندی کی جانب سے 11 اکتوبر کو فیس بک پر شائع کی گئی ایک ویڈیو رپورٹ کو مبینہ طور پر محدود کر دیا گیا۔ نوٹس میں اس کارروائی کی وجہ ایک خودکار نظام کو بتایا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ مواد بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی قوانین کی تعمیل نہیں کرتا۔
عام آدمی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی سوربھ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”تشویش ناک! بہت سے لوگ شکایت کر رہے ہیں کہ گزشتہ دو سے تین دنوں میں ان کی سوشل میڈیا فیڈ اچانک بدل گئی ہے۔ انہیں جنتر منتر، سی جے پی اور جن زی کے احتجاج سے متعلق پوسٹس نہیں دکھائی دے رہی ہیں۔“
ایک دوسرے صارف نے کہا، ”حکومت مجھے انسٹاگرام پر سی جے پی سے متعلق کوئی ویڈیو پوسٹ کرنے نہیں دے رہی ہے۔ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے۔“ صارف نے بتایا کہ سی جے پی کے بارے میں بنائی گئی ایک ویڈیو ہٹا دی گئی ہے۔اس صارف نے مزید کہا، ”میں نے آج انسٹاگرام پر وہ ویڈیو اپ لوڈ کی تھی اور پانچ منٹ کے اندر اسے بلاک کر دیا گیا۔ میں نے دوبارہ اپ لوڈ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دے رہے ہیں۔“کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے زیرِ اہتمام یہ احتجاج چار دن سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
میٹا کی بربریت‘: دہلی میں پولیس کارروائی کی ویڈیوز پر سوشل میڈیا کی پابندیاں، صارفین کا الزام...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments