راہل گاندھی نے وزیر اعظم کو کھلے مباحثے کا چیلنج دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ان کے چیلنج کو قبول نہیں کریں گے، کیونکہ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ راہل ان کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’میں آپ کو اس معاملے پر کھلے مباحثے کا چیلنج دیتا ہوں۔ کسی بھی مقام پر، کسی بھی وقت۔ اگر آپ میں ہمت ہے تو آئیے۔ آپ ایسا کرنے کی جرأت نہیں کریں گے، کیونکہ آپ اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ میں آپ کے بارے میں کیا جانتا ہوں۔‘‘
راہل گاندھی کا یہ بیان وزیراعظم نریندر مودی کے اس خطاب کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے گجرات کے ضلع نرمدا کے ایکتا نگر میں واقع مجسمہ اتحاد کے مقام پر سردار ولبھ بھائی پٹیل کے یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ قومی یوم اتحاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کی ذمہ داری حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنا ہے، لیکن بدقسمتی سے اپوزیشن اب مخالفت کرنے کے بجائے رکاوٹیں پیدا کرنے والی قوت بن گئی ہے۔ ان کے مطابق مایوسی اور ناامیدی سے دوچار اپوزیشن ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور اس نے اسے اپنا سیاسی ایجنڈا بنا لیا ہے۔ مودی نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ اپوزیشن آئین کے وقار اور تقدس کو مجروح کرنے میں مصروف ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ کچھ طاقتیں مسلسل ملک کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک ہونے والی بعض ملاقاتوں اور مبینہ طور پر ہندوستان مخالف قوتوں کی حمایت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ بیرون ملک خفیہ طور پر کون کس سے ملاقات کر رہا ہے اور ہندوستان مخالف عناصر کی حمایت کس کو حاصل ہے۔ مودی نے سوشل میڈیا کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں اور ہندوستان کی شبیہ خراب کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ملک کے عوام سے ان چیلنجوں کا مل کر مقابلہ کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے اپوزیشن سے متعلق بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مودی غیر ملکی مدد سے وزیر اعظم بن...