رائے پور، 2 نومبر : چھتیس گڑھ میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کے لیے ریاستی حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی مختلف قانونی اور سماجی پہلو¶ں کا جائزہ لے رہی ہے ۔ مجوزہ قانون میں لیو اِن ریلیشن کا لازمی اندراج، تعلق ختم کرنے کی اطلاع، خواتین کے نان و نفقہ اور ایسے رشتوں سے پیدا ہونے والے بچوں کے وراثتی حقوق سے متعلق اہم دفعات شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔
سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی کمیٹی کو یو سی سی کے حوالے سے عام شہریوں، سماجی تنظیموں، مذہبی اداروں، سیاسی جماعتوں اور مختلف برادریوں کی جانب سے ایک ہزار سے زیادہ تجاویز اور اعتراضات موصول ہوئے ہیں۔ کمیٹی کے ارکان کے مطابق، ان کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ 30 نومبر تک ریاستی حکومت کو پیش کر دی جائے گی۔ مجوزہ پروگرام کے تحت دسمبر میں اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران یو سی سی کا مسودہ پیش کیا جائے گا۔
ریاستی حکومت نے جون 2026 میں یکساں سول کوڈ کا مسودہ تیار کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے ای میل، ویب سائٹ، ڈاک اور براہِ راست شہریوں سے تجاویز طلب کی تھیں۔ آن لائن تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 اکتوبر مقرر تھی، جو ختم ہو چکی ہے ۔
کمیٹی نے رائے پور، درگ، امبیکاپور، سورج پور اور بستر ڈویژن کے تین اضلاع میں اجلاس منعقد کرکے مختلف طبقات کی آرا حاصل کی ہیں۔ اب موصولہ تجاویز کے ساتھ موجودہ قوانین اور سماجی روایات کا مطالعہ کرکے حتمی مسودہ تیار کرنے کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔
مجوزہ یو سی سی میں لیو اِن ریلیشن کے لیے واضح قانونی ضابطہ وضع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ اس کے تحت ساتھ رہنے کا فیصلہ کرنے والے جوڑوں کے لیے متعلقہ رجسٹرار کے پاس اندراج لازمی قرار دینے کی تجویز ہے ۔
اسی طرح اگر دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں فریق تعلق ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کی اطلاع رجسٹرار کے دفتر میں درج کرانا ضروری ہوگا۔ اس اطلاع کی ایک نقل دوسرے ساتھی کو بھی بھیجنے کی تجویز ہے ۔
مقررہ قانونی طریقہ کار، بشمول اندراج، پر عمل نہ کرنے کی صورت میں جرمانے اور قید تک کی سزا مقرر کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ تاہم ان دفعات کی حتمی شکل کمیٹی کی رپورٹ اور حکومت کے فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
مجوزہ قانون میں لیو اِن ریلیشن میں رہنے والی خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ کی بھی گنجائش رکھی جا سکتی ہے ۔ تعلق ختم ہونے کی صورت میں خاتون ساتھی کو نان و نفقہ حاصل کرنے کا حق دینے کی تجویز زیر غور ہے ۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ خاتون جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دے سکے گی۔
اس کے علاوہ لیو اِن ریلیشن سے پیدا ہونے والے بچوں کو قانونی طور پر جائز اولاد کا درجہ دینے اور والد کی آبائی جائیداد میں مساوی حق فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔ ان دفعات کا مقصد بچوں کے قانونی اور جائیداد سے متعلق حقوق کو واضح کرنا ہے ۔
کمیٹی کو شادی، طلاق، نان و نفقہ، وراثت اور گود لینے سمیت عائلی قوانین کے مختلف معاملات پر تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ مختلف مذہبی اور سماجی برادریوں نے خاص طور پر شادی اور طلاق کے طریقہ کار سے متعلق اپنی آرا پیش کی ہیں۔
مجوزہ نظام کے تحت شادی کا اندراج لازمی کرنے کے ساتھ مختلف مذاہب کے لیے طلاق سے متعلق یکساں قانونی دفعات نافذ کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ کمیٹی ان معاملات میں موجودہ قوانین اور موصولہ تجاویز کا تقابلی جائزہ لے رہی ہے ۔
دوسری جانب، یو سی سی کی تجویز پر بستر اور سرگوجا ڈویژنوں میں قبائلی برادریوں کے مختلف حلقوں کی جانب سے اختلافات اور تحفظات سامنے آئے ہیں۔ ان برادریوں نے اپنے روایتی سماجی نظام، رسم و رواج اور ثقافتی شناخت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے اعتراضات درج کرائے ہیں۔
ایسے میں کمیٹی کے سامنے قبائلی معاشرے کی مخصوص روایات اور ثقافتی اقدار کے تحفظ سے متعلق پہلو¶ں کا مناسب جائزہ لینے کا چیلنج ہے ۔ کمیٹی ان معاملات کا قانونی اور سماجی مطالعہ کرکے اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔
فی الحال یکساں سول کوڈ کی تمام اہم دفعات تجاویز اور غور و خوض کے مرحلے میں ہیں۔ کمیٹی کی حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ریاستی حکومت مجوزہ قانون کی شکل اور آئندہ قانون سازی کے عمل سے متعلق فیصلہ کرے گی۔
رائے پور، 2 نومبر : چھتیس گڑھ میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کے لیے ریاستی حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی مختلف قانونی اور سماجی پہلو¶ں کا جائزہ لے رہی ہے ۔ مجوزہ قانون میں لیو...
Source: Admin