کولکاتا، 2 نومبر : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین، مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری اور ریاستی صدر شمک بھٹاچاریہ کی قیادت میں پارٹی کے ہزاروں کارکن پیر کو وسطی کولکاتا میں 'لوک تنتر بچا¶، اراجکتا ہٹا¶' مارچ میں شامل ہوئے ۔
اس موقع پر مسٹر نوین نے کہا کہ مغربی بنگال کے عوام نے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کو اقتدار سے باہر کرکے 'اراجکتا' کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ''کولکاتا کے عوام نے 4 مئی کو ہی اراجکتا کا خاتمہ کر دیا تھا۔ ممتا دیدی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا اور مغربی بنگال بی جے پی کے رنگ میں رنگ گیا۔ مجھے آج اراجکتا کا کوئی اشارہ نظر نہیں آ رہا ہے ۔ تاہم، کچھ عناصر اب بھی آس پاس موجود ہیں۔ وہ کل رام لیلا میدان میں تھے اور اپنی شکست پر مایوسی کا اظہار کر رہے تھے ۔ اس ملک کے عوام انہیں اسی طرح جواب دیں گے ، جس طرح بنگال کے عوام نے دیا ہے ۔''
یہ مارچ کالج اسٹریٹ سے شروع ہوکر ہند سنیما سے گزرتا ہوا دھرم تلہ پر ختم ہوا۔ اس دوران حامی 'وندے ماترم'، 'بھارت ماتا کی جے ' اور 'جے شری رام' کے نعرے لگاتے ہوئے قومی ترنگا، پارٹی کے جھنڈے اور تختیاں لے کر چل رہے تھے ۔ مارچ میں راہل سنہا، لاکٹ چٹرجی، ریاستی وزیر اگنی مترا پال اور ڈاکٹر شردوت مکھرجی نیز سکنیہ مجمدار سمیت کئی سینئر رہنما بھی شامل ہوئے ۔
جلوس کے دھرم تلہ پہنچنے کے بعد مسٹر ادھیکاری نے پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے مسٹر نوین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے حامیوں کے جوش و خروش کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سڑکیں اور محلے جمہوریت کے تحفظ کے نعروں سے گونج اٹھے ۔ انہوں نے مبینہ غیر قانونی دراندازی کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ مارچ میں شامل کارکن بنگلہ دیشی دراندازوں سے ملک چھوڑنے کا مطالبہ کرنے والے نعرے لگا رہے تھے ۔ بنگال کو ماں درگا اور ماں کالی کی سرزمین قرار دیتے ہوئے مسٹر ادھیکاری نے قوم پرستی کے تئیں عہد بستہ لوگوں سے خوشامد کی سیاست کے خلاف متحد رہنے کی اپیل کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایسی سیاست نے اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو فروغ دیا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو تحفظ فراہم کیا۔
بی جے پی کا یہ مظاہرہ اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں 'انڈیا' اتحاد کی ریلی کے بعد ہوا ہے ، جہاں کانگریس رہنما راہل گاندھی اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران انتخابی کمیشن پر انتخابی بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
محترمہ بنرجی نے الزام لگایا کہ بنگال کی ووٹر فہرست سے ایک کروڑ سے زیادہ نام ہٹا دیے گئے ہیں، جبکہ گاندھی نے انتخابی کمیشن پر انتخابی بدعنوانیوں کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔ دونوں رہنما¶ں نے اس مہم کو جمہوریت اور آئینی اداروں کے تحفظ کی لڑائی قرار دیا تھا۔
دوسری جانب، بی جے پی نے اپنے مارچوں کو انتخابی عمل اور آئینی اداروں کو بدنام کرنے کی اپوزیشن کی کوششوں کے خلاف جوابی مہم کے طور پر پیش کیا ہے ۔
کولکاتا، 2 نومبر : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین، مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری اور ریاستی صدر شمک بھٹاچاریہ کی قیادت میں پارٹی کے ہزاروں کارکن پ...
Source: Admin