Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کیلئے بڑا چیلنج بننے والے گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟

Admin
By Admin
Oct 26, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA METRO STATION PAR MAHILA PASSENGER AUTHORITIES NE LAGAYA JURMANA

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کیلئے بڑا چیلنج بننے والے گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟
اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کیلئے بڑا چیلنج بننے والے گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟ — October 26, 2026
اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے اپوزیشن کے اہم امیدوار گادی آئزنکوٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کی ممکنہ انتخابی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی سمجھی جا رہی ہے کہ وہ نیتن یاہو نہیں ہیں، جبکہ اسرائیل کی تاریخ میں آج تک کوئی مزراحی یہودی وزیراعظم نہیں بنا۔

گادی آئزنکوٹ کی انتخابی مہم اس وقت سیاسی تنازع کا مرکز بن گئی جب اسرائیلی ٹی وی کے معروف میزبان اور نیتن یاہو کے حامی سمجھے جانے والے ینون میگال نے ان پر نسلی بنیادوں پر تنقید کی۔

ینون میگال نے آئزنکوٹ کو ’’بندر‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے مراکشی مزراحی پس منظر اور اشکنازی اشرافیہ کے ساتھ تعلق کا حوالہ دیا۔ ان کے بیان پر اسرائیل میں سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

گادی آئزنکوٹ 66 سال کے ہیں اور مراکش سے اسرائیل ہجرت کرنے والے والدین کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ 9 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں اور پانچ بچوں کے والد ہیں۔

انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسرائیلی فوج میں گزارا اور تقریباً 40 سالہ فوجی کیریئر کے بعد 2015 سے 2019 تک اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف رہے۔

آئزنکوٹ نے 1978 میں گولانی بریگیڈ میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا بچپن طبریہ اور ایلات جیسے شہروں میں گزرا، جو اسرائیل کے سیاسی طاقت کے مراکز سے باہر واقع ہیں۔ ان کا خاندانی اور سماجی پس منظر نیتن یاہو سے مختلف ہے، جن کی پرورش یروشلم کے بااثر سیاسی ماحول میں ہوئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئزنکوٹ کا مزراحی پس منظر ان کی انتخابی مقبولیت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مزراحی یہودیوں سے مراد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والی یہودی برادریاں ہیں، جب کہ اشکنازی یہودیوں کی تاریخی جڑیں یورپ میں ہیں۔ اسرائیل میں دونوں برادریوں کے درمیان سماجی اور معاشی عدم مساوات ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔

آئزنکوٹ نے 2022 میں سابق آرمی چیف بینی گینٹز کے ساتھ سیاست میں قدم رکھا۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد دونوں رہنما نیتن یاہو کی ہنگامی جنگی کابینہ میں شامل ہو گئے تھے، تاہم، جنگ کے بعد کی حکمت عملی واضح نہ ہونے پر انہوں نے جون 2024 میں کابینہ چھوڑ دی۔

فوجی سربراہ کی حیثیت سے آئزنکوٹ کو ایک متنازع معاملے کا بھی سامنا رہا۔ 2016 میں اسرائیلی فوجی ایلور عزاریہ نے الخلیل میں ایک زخمی فلسطینی حملہ آور کو گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔ دائیں بازو کے سیاست دانوں، جن میں نیتن یاہو بھی شامل تھے، کے دباؤ کے باوجود آئزنکوٹ نے فوجی تحقیقات اور مقدمے کی حمایت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ فوج کے نظم و ضبط اور اخلاقی اصولوں کا تحفظ ضروری ہے۔

غزہ جنگ نے آئزنکوٹ کے خاندان کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ دسمبر 2023 میں ان کا 25 سالہ سب سے چھوٹا بیٹا گال غزہ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہو گیا، جبکہ ان کے دو بھتیجے بھی جنگ میں مارے گئے۔

ایک سال قبل تک انتخابی جائزوں میں آئزن کوٹ کی حمایت ایک ہندسے تک محدود تھی، لیکن اب وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن کے نمایاں ترین امیدواروں میں شمار ہوتے ہیں۔

اگر وہ 27 اکتوبر کے انتخابات میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسرائیل کو اپنی تاریخ کا پہلا مزراحی وزیراعظم مل سکتا ہے۔ ان کی انتخابی مہم کا نتیجہ نہ صرف نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل بلکہ اسرائیل میں نسلی نمائندگی اور سماجی مساوات کی بحث کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے اپوزیشن کے اہم امیدوار گادی آئزنکوٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn