وائٹ ہاؤس نے نیتن یاہو کی حمایت کے لیے لابنگ کو مایوسی کی علامت قرار دے دیا۔
امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس نے اتوار کے روز رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے پارلیمانی انتخابات سے قبل امریکی صدر ٹرمپ سے انتخابی مہم میں عوامی حمایت میں اضافے کی درخواست کی، اس درخواست کو وائٹ ہاؤس مایوسی کی علامت سمجھتا ہے۔
ایکسیوس نے معاملے سے واقف ایک امریکی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکام نے نیتن یاہو کی جانب سے حمایت حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی جارحانہ کوششوں کو اس بات کا ثبوت سمجھا کہ اسرائیلی رہنما کے خیال میں وہ انتخابی دوڑ میں پیچھے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے 3 روز کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 2 مرتبہ گفتگو کی اور ان پر زور دیا کہ وہ گزشتہ ہفتے اپنے حق میں دیے گئے حمایت کے بیان کو مزید تقویت دیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ٹرمپ کو مخصوص الفاظ میں حمایت کا اظہار کرنے کی تجویز بھی دی، جبکہ اسرائیلی صحافیوں کے ساتھ فون پر انٹرویوز کا اہتمام کرنے کی بات بھی کی گئی۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کو اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کے مقابلے میں سخت انتخابی مقابلے کا سامنا ہے۔
جمعے کے روز جاری ہونے والے آخری انتخابی جائزوں میں وزیرِاعظم کے حکومتی اتحاد کو پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار نشستوں سے بہت کم ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے نیتن یاہو کی حمایت کے لیے لابنگ کو مایوسی کی علامت قرار دے دیا۔ امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس نے اتوار کے روز رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے پارلی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments