ورنداون واقع معروف سَنت پریمانند مہاراج کے رادھا کیلی کنج آشرم سے کود کر ایک شاگرد کی مشتبہ موت کا معاملہ ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ اب آشرم سے متعلق نئے نئے تنازعات سامنے آنے لگے ہیں۔ تازہ معاملے میں 3 الگ الگ مقامات سے آئے 3 خاندان اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی تلاش میں آشرم کے باہر پہنچے اور زبردست ہنگامہ کرتے ہوئے نعرے بازی کے ذریعے اپنے غصے کا اظہار کیا۔ جہاں کل تک عقیدت مند دور دور سے مہاراج کے ’درشن‘ کرنے اور ’پروچن‘ سننے آتے تھے، وہیں اب اہل خانہ اپنے پیاروں کی تلاش میں وہاں در در بھٹکنے پر مجبور ہیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق آشرم کے باہر پہنچے تینوں خاندانوں کا الزام ہے کہ ان کے گھر کے افراد پریمانند مہاراج کے درشن کرنے کی بات کہہ کر ورنداون آئے تھے، لیکن اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔ کاس گنج ضلع کی آواس وکاس کالونی کا رہنے والا 16 سالہ مینک گزشتہ 7 اگست کو گھر سے پریمانند مہاراج کے درشن کرنے کی بات کہہ کر نکلا تھا، لیکن آج تک واپس نہیں لوٹا۔ مہاراشٹر کے سمبھاجی نگر سے آئی اجولا نامی خاتون اپنے لاپتہ خاندانی رکن کو تلاش کرتے ہوئے آشرم کے چکر کاٹ رہی ہیں۔ اسی طرح متھرا کے دیوی آٹس علاقے کا ایک اور خاندان بھی اپنے لاپتہ فرد کی تلاش میں آشرم کے چکر کاٹ رہا ہے۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ درشن کے نام پر آنے کے بعد ان کے لوگ مشتبہ حالات میں لاپتہ ہوئے ہیں۔
دوسری جانب آشرم اور پریمانند مہاراج پر مسلسل لگ رہے الزامات کے درمیان آشرم کے سیوادار بھی اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ سیواداروں کا واضح طور پر کہنا ہے کہ یہ پورا معاملہ پریمانند مہاراج اور ان کے مقدس آشرم کی شبیہ خراب کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ تاہم صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب اہل خانہ اور مقامی صحافیوں کی جانب سے سوال پوچھے جانے پر آشرم انتظامیہ کا کوئی بھی ذمہ دار شخص باضابطہ طور پر کچھ بھی بولنے سے گریز کرتا نظر آیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ بات کرنے کے بجائے کچھ لوگ ان سے اور میڈیا اہلکاروں سے الجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے اہل خانہ کے غائب فرد کو تلاش کرنے آئے ایک شخص کا کہنا ہے کہ ہمارے گھر میں کئی دنوں سے کھانا نہیں بنا ہے۔ سیوادار میں سے ایک کا کہنا ہے کہ پولیس اسٹیشن جاؤ۔ ایک سادھوی اہل خانہ کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے ریاستی وزیر اعلیٰ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق آشرم احاطے کے باہر اپنے پیاروں کی تلاش میں بھٹک رہے اہل خانہ کا غصہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اگر وقت رہتے پولیس انتظامیہ نے معاملے میں مداخلت کرکے لاپتہ افراد کا سراغ نہیں لگایا تو صورت حال بگڑنے اور بڑا ہنگامہ ہونے کا پورا امکان ہے۔ حقیقت کیا ہے، یہ تو پولیس اور غیر جانب دار تفتیشی ایجنسیوں کی گہری چھان بین کے بعد ہی پوری طرح واضح ہو سکے گا۔
ورنداون واقع معروف سَنت پریمانند مہاراج کے رادھا کیلی کنج آشرم سے کود کر ایک شاگرد کی مشتبہ موت کا معاملہ ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ اب آشرم سے متعلق نئے نئے تنازعات سامنے آنے لگے ہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments