ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے خصوصی حالات سے نمٹنے کے لیے نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔‘
انھوں نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’حالیہ مہینوں میں دشمن کا منصوبہ ملک کی اہم شریانوں کو کاٹ دینا رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ہم نے اقتصادی جنگ میں دشمن کے مقاصد کو حاصل نہیں ہونے دیا۔‘
حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے ’اقتصادی دباؤ کی حکمتِ عملی‘ کے تحت ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جو اس بار تیل اور مالیاتی شعبے تک محدود نہیں رہیں بلکہ ایران کی گاڑیوں، ریلوے، مینوفیکچرنگ اور فولاد کی صنعتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ’ایران کی موجودہ صورتحال ملک کے مشکل ترین حالات میں سے ایک ہے۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق محسن رضائی نے حکومت کے اقتصادی رابطہ مرکز کے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عمل انتہائی سنجیدہ ہے۔‘
رپورٹس کے مطابق اس اجلاس میں وزیرِ جهادِ کشاورزی نے بنیادی اشیا کی فراہمی اور زرعی شعبے کی صورتحال پر بھی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ ’موجودہ حالات میں ملک کی ضرورت کی اشیا کی کوئی قلت نہیں ہے۔‘
امریکی پابندیوں میں اضافے کے ساتھ ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جس کے باعث ایرانی مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بہت سے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ کرنسی کی قیمت بڑھنے سے ان کے لیے سامان فروخت کرنا مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ خریدار موجود ہونے کے باوجود انہیں وہی سامان دوبارہ زیادہ قیمت پر خریدنا پڑتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے خصوصی حالات سے نمٹنے کے لیے نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔‘ انھوں نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’حالیہ مہینوں میں دشمن کا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments