نئی دہلی:
نئی دہلی کے تاریخی جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرے کے دوران دہلی پولیس کے اہلکاروں پر تین خاتون صحافیوں اور دیگر خاتون مظاہرین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور بدسلوکی کرنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے سخت سوالات کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔
یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کی مانگ کو لے کر کیا جا رہا تھا، جن پر اپوزیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں سے ووٹ حذف کرنے اور سیاسی فائدے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (X) پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں دہلی پولیس نے تصدیق کی کہ انہیں مظاہرے کی جگہ سے تین خاتون صحافیوں کی جانب سے جنسی ہراسانی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ پولیس کے مطابق، ان شکایات کو غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انکوائری کے لیے کرائم برانچ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، جائے وقوعہ پر موجود دیگر صحافیوں نے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا دیا۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ہندی میں ایک پوسٹ کے ذریعے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ چونکہ دہلی پولیس براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کے تحت آتی ہے، اس لیے انہوں نے امیت شاہ سے براہ راست جواب مانگا۔ راہل گاندھی نے لکھا:”جنتر منتر پر ایک خاتون صحافی نے پولیس اہلکار پر بدسلوکی کا الزام لگایا ہے۔ گھنٹوں سے سیکڑوں صحافی صرف ایک مانگ کے ساتھ بیٹھے ہیں کہ ایف آئی آر درج کی جائے۔ کیا یہ پولیس کا بنیادی فرض نہیں ہے؟ انہوں نے اتنا کام بھی نہیں کیا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرے کے دوران لوگوں کو تحویل میں لیا گیا، کیمرے چھینے گئے اور صحافیوں کو گھسیٹا گیا۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ جو حکومت ایک خاتون کی شکایت درج کرنے سے بھی ڈرتی ہے، وہ آخر کس کی حفاظت کر رہی ہے؟
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان سورو داس اور بانی ابھجیت دپکے نے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اے سی پی وویک بھگت نے خاتون صحافی کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور انہیں غلط طریقے سے چھوا۔ انہوں نے مقامی ڈسٹرکٹ کمشنر آف پولیس پر اے سی پی کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئے ملزم افسر کی فوری معطلی اور ایف آئی آر کی مانگ کی۔
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ( بائیں بازو کی طالب علم تنظیم 'آئیسا' نے اپنے بیان میں کہا کہ مرد پولیس اہلکاروں نے خاتون مظاہرین، صحافیوں اور وکیلوں سے بدسلوکی کی اور بدتمیزی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔
نئی دہلی: نئی دہلی کے تاریخی جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرے کے دوران دہلی پولیس کے اہلکاروں پر تین خاتون صحافیوں اور دیگر خاتون مظاہرین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور بدسلوکی کرنے کے ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments