سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی طویل پوسٹ میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ہماری شکست کی وجہ جنگ ہے اور خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی گزشتہ رات اس حقیقت کا اعتراف کیا تھا۔
جے ڈی وینس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کا اصل مسئلہ ڈیموکریٹس کی جانب سے ووٹروں کو متحرک کرنا نہیں تھا بلکہ ٹرمپ اور وینس کو 2024 کے صدارتی انتخابات میں ووٹ دینے والے بعض ووٹرز کا اپنی جماعت سے دور ہو جانا تھا۔
نائب صدر نے انتخابی تجزیہ کاروں اور سروے رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ ریپبلکن ووٹرز میں ناراضی پائی جاتی تھی اور ان میں سے بعض نے ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔
جے ڈی وینس نے ایران جنگ کے علاوہ مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافے اور خارجہ پالیسی میں امریکی مفادات کو ترجیح دینے کے معاملے کو بھی شکست کے اہم عوامل قرار دیا۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کے حوالے سے حکومتی پالیسی میں تبدیلی کا معاملہ بھی ووٹروں کی تشویش میں شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایران جنگ لڑنا درست فیصلہ تھا اور اس کے نتیجے میں اگلے چھ سال کیلیے سینیٹ سے محروم ہونا ایک قابلِ قبول سیاسی قیمت تھی تو وہ اس مؤقف کا دفاع کر سکتا ہے، لیکن کم از کم اسے اس فیصلے کی قیمت تسلیم کرنی چاہیے۔
جے ڈی وینس نے انتخابی مہم کے دوران معاشی پالیسیوں اور مہنگائی کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کی مؤثر ترجمانی نہ ہونے کا بھی اعتراف کیا، تاہم ان کے نزدیک انتخابی شکست کی سب سے بڑی وجہ ایران جنگ تھی۔
انہوں نے ایران تنازع کے سفارتی حل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنے ووٹرز کی ناراضی اور انتخابی نتائج سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی حاصل کر کے کانگریس میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ انتخابی نتائج کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واشنگٹن (4 نومبر 2026): ایران کے ساتھ جنگ، مہنگائی اور اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات کے معاملے پر حکومتی پالیسیوں سے ناراضی امریکی مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کی اہم و...