امریکا ممکنہ طور پر اسرائیل میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کی ایک اضافی بیٹری تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
اوپن سورس فلائٹ ٹریکنگ مشاہدات میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس سے اسرائیل کے لیے متعدد C-17 مال بردار طیاروں کی پروازوں میں اضافے کے بعد خطے میں امریکی فضائی دفاعی نظام کی مزید تعیناتی کی جارہی ہے۔
امریکی فضائیہ کے کم از کم چھ C-17A گلوب ماسٹر تھری مال بردار طیاروں نے فضائی دفاعی ساز و سامان لے کر ٹیکساس کے فورٹ بلس میں واقع بگس آرمی ایئر فیلڈ سے جنوبی اسرائیل کے اوودا ایئر بیس کے لیے پروازوں کا دوسرا سلسلہ شروع کیا۔
اوپن سورس مشاہدات کے مطابق ان تازہ پروازوں کا سراغ منگل کو ملا، جبکہ گزشتہ ہفتے بھی آٹھ C-17 طیارے اوودا ایئر بیس پہنچے تھے۔
اوپن سورس انٹیلی جنس کے مطابق پروازوں کے دوسرے گروپ کی آمد مکمل ہونے کے بعد بگس ایئر فیلڈ سے اوودا ایئر بیس تک آنے والی C-17 پروازوں کی مجموعی تعداد 16 تک پہنچنے کی توقع ہے۔
فضائی نقل و حمل کے اس بڑے پیمانے سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا صرف محدود پیمانے پر فضائی دفاعی سازوسامان بھیجنے کے بجائے پیٹریاٹ نظام کی مکمل بیٹری تعینات کر سکتا ہے۔
محدود دفاعی پیکیج، جسے منیمم انگیجمنٹ پیکیج (MEP) کہا جاتا ہے، میں ایسا فوجی دستہ شامل ہوتا ہے جو زیادہ سے زیادہ 96 گھنٹوں کے اندر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے دائرۂ کار میں کسی بھی مقام پر فضائی اور میزائل دفاعی کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تازہ پروازوں سے قبل بگس آرمی ایئر فیلڈ میں مزید تیاریاں بھی دیکھی گئیں، جہاں REACH 324 کال سائن کے تحت آپریٹ کرنے والا ایک اور C-17 طیارہ پیر کے روز کینیڈا کے گینڈر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔
یہ پرواز اسرائیل کے لیے روانہ ہونے والے پہلے 8 طیاروں سے الگ تھی، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ پیٹریاٹ نظام کی ایک اور تعیناتی کی تیاری بھی جاری ہو سکتی ہے۔
امریکا ممکنہ طور پر اسرائیل میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کی ایک اضافی بیٹری تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔...
Source: Admin