Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

امریکا میں دفاعی کمپنیوں کو اسلحہ بنانے کی نئی حکمتِ عملی پیش کرنے کے لیے 21 دن کی مہلت

امریکا میں دفاعی کمپنیوں کو اسلحہ بنانے کی نئی حکمتِ عملی پیش کرنے کے لیے 21 دن کی مہلت

واشنگٹن (09 اگست 2026): امریکی محکمہ دفاع نے ایران جنگ میں ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کے باعث دفاعی کمپنیوں کو اسلحے کی پیداواربڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ نائب وزیر دفاع اسٹیو فائن برگ نے دفاعی کمپنیوں کو نئی پیداواری حکمتِ عملی پیش کرنے کے لیے 21 دن کی مہلت دی ہے۔

پینٹاگون کے مطابق ایران جنگ کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر شدید دباؤ ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ دفاعی کمپنیوں کو پیداوار اور ترسیل کی رفتار میں تیزی سے اضافہ کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون نے امریکا کی بڑی دفاعی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اہم ہتھیاروں کے نظام کی پیداوار اور ترسیل تیز کریں، کیوں کہ ایران جنگ کے باعث فوجی ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

نائب وزیرِ دفاع اسٹیو فائن برگ نے 5 اگست کو ایک خط کے ذریعے بوئنگ کمپنی، لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن اور آر ٹی ایکس کارپوریشن سمیت مختلف کمپنیوں سے یہ مطالبہ کیا۔ جب کہ واشنگٹن پوسٹ نے سب سے پہلے اس خط کی خبر دی تھی۔

فائن برگ نے لکھا ’’برسوں پر محیط تیاری کے ادوار قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے پروگراموں کے نظام الاوقات میں فوری طور پر نمایاں تیزی لانی ہوگی اور اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔‘‘

پینٹاگون وسیع علاقے کی نگرانی کے آلات، فضائی دفاعی سینسرز، میزائل شکن نظام اور میزائلوں کی نگرانی کرنے والے نظام کی تیز تر خریداری اور پیداوار میں اضافے کا خواہاں ہے۔

امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف حملے کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے والے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کے دوران امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اس بات کی تردید کی کہ امریکا کے پاس گولہ بارود کی کمی ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے پاس ’’بڑی مقدار‘‘ میں گولہ بارود موجود ہے۔

ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ بعض نامعلوم ہتھیاروں کے نظام کے ذخائر ’’کچھ قدرے محدود‘‘ ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے متبادل روزانہ پہنچ رہے ہیں۔

پینٹاگون کی تشویش صرف ایران جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں تک محدود نہیں ہے۔ فائن برگ نے سیٹلائٹ مواصلات، اگلی نسل کے فضائی دفاعی آلات اور لاک ہیڈ مارٹن کے نیکسٹ جنریشن انٹرسیپٹر کو بھی ترجیحی پروگراموں میں شامل کیا ہے۔ نیکسٹ جنریشن انٹرسیپٹر کو امریکا کو بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں سے محفوظ رکھنے اور ملک کے داخلی میزائل دفاعی نظام کے پرانے اجزا کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

دفاعی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اگست کے آخر تک اپنے منصوبے پیش کریں، جن میں ہتھیاروں کی زیادہ تیز تر ترسیل کے نظام الاوقات، پیداواری صلاحیت میں توسیع، یا دونوں اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn