Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

ایلون مسک ’چاند پر روبوٹس سے فیکٹریاں بنوا کر سیٹلائٹس خلا میں داغیں گے‘، مگر کیسے؟

ایلون مسک ’چاند پر روبوٹس سے فیکٹریاں بنوا کر سیٹلائٹس خلا میں داغیں گے‘، مگر کیسے؟

ٹیک بلینئر ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس چاند پر فیکٹریاں قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جہاں بھاری نوعیت کے بیشتر کام روبوٹس انجام دیں گے۔
سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے چند روز قبل کمپنی کی پہلی سہ ماہی مالیاتی بریفنگ کے دوران یہ بات کہی۔
ایلون مسک نے کہا، ’ہم چاند پر بڑی مقدار میں سامان اتاریں گے۔ ہم چاند پر فیکٹریاں قائم کریں گے اور روبوٹس اس کام میں بہت مددگار ثابت ہوں گے۔‘
سائنس ویب سائٹ سپیس ڈوٹ کوم کے مطابق یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں۔ مسک نے پہلی بار فروری میں اس وژن کا ذکر کیا تھا، جب انہوں نے ایک بلاگ پوسٹ کے ذریعے اپنی قائم کردہ کمپنی ایکس اے آئی کی سپیس ایکس کے ساتھ خریداری کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس ہفتے مسک نے ایک بار پھر اس منصوبے پر زور دیتے ہوئے سرمایہ کاروں کو واضح کیا کہ زمین سے باہر صنعتی پیداوار سپیس ایکس کے مستقبل کے منصوبوں میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
منصوبے کے مطابق چاند پر قائم کی جانے والی یہ فیکٹریاں سپیس ایکس کے سٹار اے آئی سیٹلائٹس تیار کریں گی۔ کمپنی آنے والے برسوں میں زمین کے مدار میں دس لاکھ سیٹلائٹس پر مشتمل سٹار مائنڈ کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک قائم کرنا چاہتی ہے، جس کے بعد ان سیٹلائٹس کو زمین کے مدار سے بھی آگے بھیجنے کا منصوبہ ہے۔
سپیس ایکس کی طویل مدتی خواہش یہ ہے کہ چاند پر تیار کیے جانے والے سٹار مائنڈ سیٹلائٹس کو وہیں سے برقی مقناطیسی میس ڈرائیورز کے ذریعے خلا میں روانہ کیا جائے۔ یہ بنیادی طور پر انتہائی طاقتور ریل گنز جیسا نظام ہوگا جو سیٹلائٹس کو چاند کی سطح سے خلا میں داغ سکے گا۔
مسک نے کہا،’چاند پر روبوٹس کی مدد سے وہاں ہی بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ شروع کرنا، میں جانتا ہوں کہ ابھی یہ بات کسی سائنس فکشن جیسی لگتی ہے، لیکن یہ ہونے والا ہے، جو ہمیں چاند پر ماس ایکسیلیریٹر بنانے کے قابل بنائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’اور اگر چاند پر ماس ایکسیلیریٹر موجود ہو، ساتھ ہی وہاں شمسی توانائی اور ریڈی ایٹرز کی پیداوار بھی ہونے لگے، میں جانتا ہوں یہ بالکل پاگل پن جیسا لگتا ہے، شاید خلا میں بھیجی جانے والی ذہانت کے لحاظ سے زمین کی معیشت سے ایک ہزار گنا بڑی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں، بلکہ ممکنہ طور پر ایک ملین گنا تک۔‘
یہاں شمسی توانائی اور ریڈی ایٹرز کی پیداوار سے مراد سٹار مائنڈ سیٹلائٹس کے اہم اجزا کی تیاری ہے۔ سولر پینلز سیٹلائٹس کو توانائی فراہم کریں گے، جبکہ ریڈی ایٹرز خلا میں سیٹلائٹس کے اندر پیدا ہونے والی بڑی مقدار میں حرارت کو خارج کرنے کا کام کریں گے۔
مسک نے چاند پر کام کرنے والے روبوٹس کی تعداد یا ان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ تاہم امکان ہے کہ وہ آپٹیمس روبوٹس پر انحصار کر رہے ہیں، جو مسک کی ایک اور کمپنی، گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا تیار کر رہی ہے۔ مسک پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سپیس ایکس مستقبل قریب میں آپٹیمس کے کچھ روبوٹس مریخ پر بھیجے گی تاکہ وہاں انسانوں کی آبادکاری کی راہ ہموار کرنے میں مدد مل سکے۔
یہ روبوٹس سٹارشپ کے ذریعے خلا میں بھیجے جائیں گے۔ سٹارشپ سپیس ایکس کا مکمل طور پر دوبارہ استعمال ہونے والا اگلی نسل کا دیوہیکل راکٹ ہے، جو اس وقت اپنی 14ویں آزمائشی پرواز کی تیاری کر رہا ہے۔
درحقیقت، زمین کے مدار سے لے کر چاند اور اس سے آگے تک، سپیس ایکس کے تقریباً تمام بڑے منصوبوں میں سٹارشپ مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
سپیس ایکس کے چیف فنانشل آفیسر بریٹ جانسن نے مالیاتی بریفنگ کے دوران کہا، ’سٹارشپ کا مقصد فالکن 9 راکٹ کے مقابلے میں پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت چار گنا بڑھانا اور لانچ کی لاگت دس گنا کم کرنا ہے، جس سے ہمارے تمام کاروباری شعبوں میں نمایاں نئی صلاحیتیں پیدا ہوں گی۔‘
انہوں نے مزید کہا،’ہم سالانہ ہزاروں سٹارشپ لانچز کے لیے درکار انفرا اسٹرکچر کی تیاری میں مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔ اس میں ریپٹر انجنز اور لانچ گاڑیوں کی پیداوار تیز کرنا، اپنے گیگا بیز کی تعمیر، اور سٹاربیس کے ساتھ ساتھ کیپ کیناویرل میں پیڈ 39 اے اور پیڈ 37 سمیت متعدد لانچ پیڈز کو فعال کرنے کے لیے نمایاں پیش رفت شامل ہے۔‘
ریپٹر وہ انجن ہے جو سٹارشپ کو طاقت فراہم کرتا ہے، جبکہ سٹاربیس جنوبی ٹیکساس میں سپیس ایکس کا مرکز ہے، جہاں اس وقت سٹارشپ کی تیاری، آزمائش اور لانچنگ کی سرگرمیاں جاری ہیں۔
منگل کی یہ مالیاتی بریفنگ سپیس ایکس کے لیے ایک تاریخی موقع بھی تھی، کیونکہ یہ کمپنی کی بطور عوامی طور پر درج کمپنی پہلی مالیاتی بریفنگ تھی۔
ایلون مسک نے مارچ 2022 میں سپیس ایکس کی بنیاد ایک نجی کمپنی کے طور پر رکھی تھی، تاہم رواں برس جون میں کمپنی نے تاریخ کے سب سے بڑے آئی پی او کے ذریعے سٹاک مارکیٹ میں قدم رکھا۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn