ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے اعلان کیا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ مصر آنے والے مرحلے میں اس مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن جائے گا جو جمعہ کے روز سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔
خاقان فیدان نے ترک خبر رساں ادارے ’اناطولیہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ مصر تمام امور میں ہمارا ایک قدرتی حلیف ہے اور میرا ماننا ہے کہ آنے والے مرحلے میں مصر بھی اس اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کچھ تکنیکی مسائل موجود ہیں اور جیسے ہی وہ حل ہو جائیں گے تو اس بات میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی کہ مصر بھی اس اتحاد کا حصہ بن جائے۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ہمارے صدر کے ویژن کے مطابق یہ اتحاد صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہمیں وسعت اختیار کرنی چاہیے اور اگر ضرورت پڑے تو اس چھتری کے نیچے سب کو شامل کیا جانا چاہیے۔
خاقان فیدان نے واضح کیا کہ دیگر ممالک نے بھی اس معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ ہم اپنے خطے کے معاملات کو سنبھالنے میں زیادہ بڑا کردار ادا کریں کیونکہ باہر کی قابض طاقتیں خطے کے مسائل کو حل کرنے میں کوئی مدد فراہم نہیں کرتیں بلکہ ان میں مزید اضافہ کرتی ہیں تاہم انہوں نے کسی بھی ملک کا نام نہیں لیا۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں جمعہ کے روز طے پانے والے اس معاہدے کی تیاری دو سال سے زیادہ عرصے سے کی جا رہی تھی ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو بھی ملک ہم پر حملہ نہیں کرے گا وہ ہمارا ہدف نہیں بنے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ اسٹریٹجک اتحادی ان تینوں ممالک کے درمیان معاہدے کا مقصد باہر کے کسی ملک کو کوئی پیغام دینا نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد اس خطے یعنی مشرق وسطی میں پائیدار استحکام لانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ نیٹو میں ترکیہ کی ذمہ داریوں کے متصادم نہیں ہے ۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس طرح عمل کرنے والے پہلے ملک نہیں ہیں کیونکہ امریکہ نے بھی اسرائیل سمیت ناٹو سے باہر کے کئی ممالک کے ساتھ اسی طرح کے معاہدے کر رکھے ہیں۔
مشرق وسطی میں جاری جنگ کے سائے میں یہ اتحاد نیٹو کی طرز پر مشترکہ دفاعی شق کے تحت امریکہ کے تین حلیف ملکوں کو ایک لڑی میں پروتا ہے جس کے تحت کسی بھی رکن ملک پر ہونے والا حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد عبدالعزيز آل سعود، ترکیہ کے صدر رجب طيب ایردوآن اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعہ کے روز "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے" پر دستخط کیے تھے جو تینوں ممالک کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں اور خطے اور دنیا میں امن اور استحکام کے حصول کے ذریعے ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی طرف گامزن ہیں۔
اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ ڈیٹرنس کو فروغ دینا ہے اور اس میں یہ طے پایا ہے کہ کسی بھی ملک پر ہونے والا مسلح حملہ سب پر حملہ شمار ہوگا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی واس کے مطابق یہ معاہدہ ان کے مابین دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو فروغ دینے سے بھی متعلق ہے۔
Source: Admin
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments