تبت اور نیپال میں بہنے والے دریائے بھوٹے کوشی کا راستہ برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے کے باعث بند ہونے سے بننے والی جھیل اوور فلو ہونا شروع ہو گئی، جس کے باعث جھیل کے کنارے بھی ٹوٹ گئے۔
جھیل میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث امدادی کارروائیاں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک معطل رہیں، تاہم صورتِ حال قابو میں آنے کے بعد ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا۔
چینی حکام کے مطابق جھیل میں پانی کا ذخیرہ 25 لاکھ مکعب میٹر سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ ایک روز قبل چینی انجینئرنگ ٹیم نے پانی کا ذخیرہ 15 سے 20 لاکھ مکعب میٹر تک ہونے کا تخمینہ لگایا تھا۔
چینی حکام مزید سیلاب کے خطرے کو کم کرنے کے لیے تبت اور نیپال کو ملانے والی سرحدی گزرگاہ کے قریب صورتِحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چین نے خبردار کیا تھا کہ آئندہ 3 روز کے دوران مزید 30 لاکھ مکعب میٹر پانی جھیل میں داخل ہو سکتا ہے، جس سے سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
2 روز قبل نیپال اور تبت میں گلیشیئر کے انہدام، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی، تقریباً 1 ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق نیپال میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 489 جبکہ تبت میں 5 افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم مختلف اداروں کی جانب سے ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کے اعداد و شمار میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہے۔
تبت اور نیپال میں بہنے والے دریائے بھوٹے کوشی کا راستہ برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے کے باعث بند ہونے سے بننے والی جھیل اوور فلو ہونا شروع ہو گئی، جس کے باعث جھیل کے کنارے بھی ٹوٹ گئے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments