بالی وڈ کے دو متنازع مگر مقبول سٹارز ریتک روشن اور کنگنا رناوت ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ تقریباً ایک دہائی قبل شروع ہونے والا ان کا تنازع ایک مرتبہ اس وقت پھر سوشل میڈیا پر زندہ ہو گیا، جب ’وی نیڈ ٹو اپولوجائز ٹو ریتک‘ یعنی ’ہمیں ریتک سے معافی مانگنی چاہیے‘ کا ٹرینڈ تیزی سے وائرل ہونے لگا۔ اس ٹرینڈ پر ریتک روشن کے محتاط ردِعمل اور اس کے بعد کنگنا رناوت کی سخت جوابی پوسٹ نے ایک بار پھر دونوں کے دیرینہ تعلقات، سنہ 2016 کے قانونی تنازع اور بالی وڈ کی سب سے زیادہ زیرِ بحث معاملے کو تازہ کر دیا۔ یہ تنازع اس وقت دوبارہ بھڑک اٹھا جب معروف مصنف اور سوشل میڈیا شخصیت فریڈی برڈی نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’دنیا کو ریتک روشن سے معافی مانگنی چاہیے۔‘ اس پر ریتک روشن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’صرف اس لیے کسی ایک فریق کا ساتھ دینا کہ دوسرے کو لوگ ناپسند کرنے لگے ہیں، معاشرے کے بڑے مسئلے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے مکمل حقائق اور درست تناظر کا انتظار کریں گے، کیونکہ انصاف کا تقاضا یہی ہے۔‘ ریتک روشن کے اس بیان کو کئی صارفین نے ان کے پختہ اور متوازن رویے کی مثال قرار دیا، لیکن کنگنا رناوت نے اسے اپنے خلاف ایک بالواسطہ اشارہ سمجھا۔ انہوں نے انسٹاگرام سٹوری پر ریتک روشن کے بیان کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے نہ صرف جواب دیا بلکہ ان سے اپیل کی کہ وہ ان لوگوں کی بھی مذمت کریں جو ان کے نام کا سہارا لے کر کنگنا کو مسلسل ٹرول اور ہراساں کرتے ہیں۔ کنگنا نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’وہ خوش ہیں کہ ریتک کو صبا آزاد کی صورت میں اپنی زندگی کا ساتھی مل گیا ہے اور دونوں ایک خوبصورت جوڑی لگتے ہیں۔ آپ ایک اعتماد والے رشتے میں ہیں اور ایسے میں کسی خاتون کو پریشان کرنا یا ایسے بیانات دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’ریتک کو چاہیے کہ آگ میں گھی ڈالنے کے بجائے ان افراد کو روکیں جو ان کے نام پر انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ کنگنا کے مطابق اس قسم کے بیانات نہ صرف غیر ضروری ہیں بلکہ ریتک کی موجودہ ساتھی صبا آزاد کے لیے بھی باعثِ شرمندگی بن سکتے ہیں۔‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پوری بحث کا آغاز کسی فلم یا ذاتی بیان سے نہیں بلکہ طلبہ کے احتجاج پر کنگنا رناوت کے ایک تبصرے سے ہوا۔ اس بیان پر نوجوانوں کی خود ساختہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے ترجمان سورَو داس نے طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دوست مذاق میں کہتے ہیں کہ شاید کنگنا انہیں اس لیے نشانہ بنا رہی ہیں کیونکہ وہ نوجوان ریتک روشن سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ جملہ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر میمز اور تبصروں کا حصہ بن گیا اور پھر بات ریتک اور کنگنا کے پرانے تنازع تک جا پہنچی۔ یاد رہے کہ ریتک روشن اور کنگنا رناوت کے درمیان اختلافات کا آغاز سنہ 2016 میں اس وقت ہوا تھا جب کنگنا نے ایک انٹرویو میں ریتک کو اپنا ’سِلی ایکس‘ قرار دیا تھا۔ ریتک نے فوری طور پر اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کبھی رومانوی تعلق میں نہیں رہے۔ اس کے بعد قانونی نوٹس، ای میلز، جوابی بیانات، پولیس تحقیقات اور میڈیا ٹرائل کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جس نے کئی برس تک بالی وڈ کی سرخیوں پر قبضہ جمائے رکھا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا مگر اس کی بازگشت آج بھی وقفے وقفے سے سنائی دیتی رہتی ہے۔ اس تازہ تنازع نے سوشل میڈیا کو بھی دو واضح حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طبقہ ریتک کے محتاط انداز کی تعریف کر رہا ہے، جبکہ دوسرا کنگنا کے اس مؤقف کی حمایت کر رہا ہے کہ آن لائن ہراسانی کے خلاف کھل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ فلم اپڈیٹس ہب نامی ایک ہینڈل نے لکھا: ’ہر چند ماہ بعد ریتک اور کنگنا کی کہانی کا نیا سیزن شروع ہو جاتا ہے، بالی وڈ کی یہ سب سے لمبی چلنے والی سیریز ہے۔‘ سنیما آبزرور نامی ہیںڈل سے لکھا گيا: ’ریتک نے کسی کا نام نہیں لیا، لیکن پورا انٹرنیٹ سمجھ گیا کہ اشارہ کس طرف ہے۔‘ ریڈٹ صارف یوبالی وڈ بف نے لکھا: ’اگر دس سال بعد بھی یہی تنازع زندہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سوشل میڈیا کسی بھی کہانی کو کبھی مرنے نہیں دیتا۔‘ وائس آف سنیما نامی ہینڈل نے لکھا: ’کنگنا کا کہنا درست ہے کہ آن لائن بُلیئنگ کے خلاف ہر مشہور شخصیت کو واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے، چاہے معاملہ کسی کا بھی ہو‘ جبکہ پاپ کلچر انڈیا نے لکھا: ’یہ تنازع اب قانونی کم اور سوشل میڈیا کا زیادہ موضوع بن چکا ہے، جہاں ہر نئی پوسٹ پر پرانی فائلیں دوبارہ کھل جاتی ہیں۔‘ کئی صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر ’سوری ریتک‘ ٹرینڈ اچانک کیوں مقبول ہوا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں مختلف عوامی معاملات پر کنگنا کے بیانات نے ان کے ناقدین کو متحرک کیا، جس کے بعد پرانا تنازع دوبارہ زیرِ بحث آنے لگا۔ دوسری جانب کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ برسوں بعد عوامی رائے میں آنے والی تبدیلی کے باعث لوگ ماضی کے واقعات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اب تک سنہ 2016 کے تنازع سے متعلق کوئی نئی قانونی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے، اور پرانے دعوے اپنی اپنی جگہ برقرار ہیں۔ خیال رہے کہ ریتک کی شادی ان کی بچپن کی دوست اور معروف اداکار سنجے خان کی بیٹی سوزین خان سے ہوئی تھی لیکن پھر دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ اس دوران ریتک کا نام کئی لوگوں کے ساتھ جڑا جس میں کنگنا رناوت سرفہرست نظر آتی ہیں، خاص طور پر تنازع کے بعد۔ پھر ریتک روشن نے صبا آزاد کے ساتھ اپنی محبت کا باضابطہ اعلان سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرکے کیا تھا۔ دونوں نے پہلی مرتبہ کرن جوہر کی 50ویں سالگرہ کی تقریب میں ایک ساتھ عوامی سطح پر شرکت کی۔ اس کے بعد سے وہ اپنے تعلق کے بارے میں کھل کر اظہار کرتے رہے ہیں اور اکثر اپنی مشترکہ تعطیلات کی تصاویر بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کرتے رہتے ہیں۔
Source: Admin
10 months ago
دوران حج ایسا کیا ہوا تھا کہ محمد رفیع نے گلوکاری چھوڑ دی؟ بیٹے نے بتادیا
10 months ago
شاہ رخ اور سلمان کو بڑا اسٹار اور ان کے مقابلے میں خود ویٹر سمجھتا ہوں، عامر خان
4 months ago
راجپال یادیو معصوم اور بےگناہ ہیں، ایک جال میں پھنس گئے تھے، پریا درشن
11 months ago
میرے خاندان نے کبھی بھی بیف نہیں کھایا، سلیم خان
9 months ago
فلم دنگل کی اداکارہ زائرہ وسیم کا نکاح، تصاویر شیئر کردیں
11 months ago
’ادے پورفائلز‘ کے بعد لوجہاد، مبینہ اسلامی دہشت گردی اور مذہب تبدیلی پر مبنی امت جانی کی نئی فلم ’عائشہ‘ کا پوسٹر ریلیز
10 months ago
دوران حج ایسا کیا ہوا تھا کہ محمد رفیع نے گلوکاری چھوڑ دی؟ بیٹے نے بتادیا
10 months ago
شاہ رخ اور سلمان کو بڑا اسٹار اور ان کے مقابلے میں خود ویٹر سمجھتا ہوں، عامر خان
4 months ago
راجپال یادیو معصوم اور بےگناہ ہیں، ایک جال میں پھنس گئے تھے، پریا درشن
11 months ago
میرے خاندان نے کبھی بھی بیف نہیں کھایا، سلیم خان
9 months ago
فلم دنگل کی اداکارہ زائرہ وسیم کا نکاح، تصاویر شیئر کردیں
11 months ago
’ادے پورفائلز‘ کے بعد لوجہاد، مبینہ اسلامی دہشت گردی اور مذہب تبدیلی پر مبنی امت جانی کی نئی فلم ’عائشہ‘ کا پوسٹر ریلیز
10 months ago
کیکو شاردا نے کرشنا ابھیشیک سے بحث کے بعد کپل شرما شو چھوڑ دیا؟
8 months ago
بغیر شور شرابہ کے دھرمیندر کی آخری رسومات ادا، صرف اہل خانہ اور بالی ووڈ ہستیاں رہیں موجود
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments