بٹھنڈہ: پنجاب کے ضلع مانسا میں منگل کی صبح فائرنگ سے انسدادِ منشیات کے سرگرم کارکن پروندر سنگھ جھوٹا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ مبینہ طور پر نشہ آور اشیا فروخت کرنے والے ایک میڈیکل اسٹور کے مالک سے بازپرس کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق منگل کی صبح پروندر سنگھ جھوٹا کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے مبینہ طور پر ایک میڈیکل اسٹور سے ممنوعہ مصنوعی منشیات خریدے تھے۔ جھوٹا اس شخص کو لے کر متعلقہ دکان پر پہنچے اور دکان کے مالک سے منشیات کی مبینہ فروخت کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ اس دوران دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس پر دکان کے مالک نے مبینہ طور پر اسلحہ نکال کر انسدادِ منشیات بریگیڈ کے سرگرم رکن پروندر سنگھ جھوٹا پر فائرنگ کر دی، اور یہ سارا واقعہ کیمرے میں بھی قید ہو گیا۔
گولی لگنے کے باوجود جھوٹا نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن کچھ ہی فاصلے پر گر کر بیہوش ہو گئے۔ انہیں مانسا کے سول اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔
حملہ آور کی شناخت میڈیکل اسٹور کے مالک اشوانی کمار کے طور پر ہوئی ہے جو فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ بٹھنڈہ کے ڈی آئی جی ہرجیت سنگھ نے بتایا کہ پولیس نے ملزم دکان دار کی شناخت کر کے اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
مقتول پروندر سنگھ جھوٹا طویل عرصے سے منشیات کے خلاف مہم چلا رہے تھے اور گزشتہ چند مہینوں سے وہ ان میڈیکل اسٹورز کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے تھے جو مبینہ طور پر نشہ آور گولیاں، مصنوعی منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیا کی فراہمی میں ملوث ہیں۔ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہے اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔
بٹھنڈہ: پنجاب کے ضلع مانسا میں منگل کی صبح فائرنگ سے انسدادِ منشیات کے سرگرم کارکن پروندر سنگھ جھوٹا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ مبینہ طور پر نش...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments