ریلی کے دوران بی جے پی اور اے بی وی پی کا ،اے آئی ڈی ایس اوپر حملہ، 40مظاہرین زخمی
مشرقی مدنی پور ضلع کے بھوپتی نگر کے باجک±ل میں اتوار کے روز آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے آئی ڈی ایس او) کی جانب سے نکالی گئی ریلی پر مبینہ طور پر بی جے پی اور اے بی وی پی کے حامیوں نے حملہ کر دیا۔ اس واقعے میں تقریباً 40 مظاہرین زخمی ہو گئے، جن میں سے 10 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی میں جاری تحریک کی حمایت میں یہ ریلی نکالی تھی۔ مظاہرین نے سرکاری امداد یافتہ اسکولوں کی بندش کے خلاف احتجاج کیا اور اساتذہ کی بھرتی میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں ہائر سیکنڈری سطح سے سمسٹر امتحان کا نظام ختم کرنے سمیت دیگر مطالبات بھی پیش کیے گئے۔
اے آئی ڈی ایس او کے مظاہرین مشرقی مدنی پور جنوبی تنظیمی ضلعی کمیٹی کی پہلی کانفرنس کے مقام کی جانب مارچ کر رہے تھے، جب صبح تقریباً 9 بجے ان پر حملہ کیا گیا۔
اے آئی ڈی ایس او کے مطابق، ریلی میں 100 سے زیادہ طلبہ شریک تھے۔ الزام ہے کہ نوجوانوں کے ایک گروپ نے انہیں گھیر لیا اور ان پر وحشیانہ حملہ کر دیا۔ اے آئی ڈی ایس او کے مظاہرین نے الزام لگایا کہ حملہ آوروں میں سے کئی نے اپنے چہرے ماسک یا تولیوں سے ڈھانپ رکھے تھے اور ان کے پاس چاقو اور بانس کی لاٹھیاں تھیں۔
تنظیم نے الزام لگایا کہ حملہ آور طلبہ کو بے رحمی سے پیٹنے کے دوران زبردستی ”بھارت ماتا کی جے“ کے نعرے لگوا رہے تھے۔
یہ واقعہ باجک±ل-بھگوان پور اسٹیٹ ہائی وے پر پیش آیا، جس کے بعد طلبہ اور آس پاس کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زخمی مظاہرین کو ابتدائی طور پر قریبی بھگوان پور بلاک پرائمری ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا۔
شدید زخمی مظاہرین کو بعد میں بہتر علاج کے لیے مشرقی مدنی پور کے تم?لوک میں واقع تامل±پتو میڈیکل کالج اینڈ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اے آئی ڈی ایس او نے حملے کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مشرقی مدنی پور کے ضلعی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ضلع مجسٹریٹ کو تحریری شکایت درج کرائی ہے۔
تنظیم نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور اسے آگ لگا دی گئی۔ اس کے علاوہ باجک±ل کے شری رام کرشن کالج آف ایجوکیشن میں مجوزہ کانفرنس کے لیے بنایا گیا اسٹیج بھی توڑ دیا گیا۔ یہ ایک نجی کالج ہے، جہاں ابتدائی تعلیم میں ڈپلومہ کورس کرایا جاتا ہے۔
زخمی ہونے والوں میں اے آئی ڈی ایس او کی ریاستی کمیٹی کے خزانچی سورجیت سامنتا، ریاستی سکریٹری اور بورڈ کے رکن پنٹو داس، ریاستی کمیٹی کے اراکین نیر±وپما بکشی اور دیپانکر پال، نیز مشرقی مدنی پور جنوبی تنظیمی ضلع کے کنوینر لکشمن چندر گھورائی شامل ہیں۔
گھورائی نے الزام لگایا، ”کانفرنس میں شرکت کے لیے جلوس کی شکل میں آنے والے طلبہ کو مقامی بی جے پی قیادت سے وابستہ شرپسندوں نے بے رحمی سے پیٹا۔ پولیس کے دیر سے پہنچنے کی وجہ سے وحشیانہ حملہ اور توڑ پھوڑ کافی دیر تک جاری رہی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ تنظیم کے دفتر میں توڑ پھوڑ کے بعد اسے آگ لگا دی گئی اور کانفرنس کے اسٹیج کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
تاہم، بھگوان پور کے بی جے پی رکن اسمبلی اور وزیر شانتنو پرمانک نے بی جے پی کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اے آئی ڈی ایس او کی ریلی میں لگائے جانے والے نعروں کی وجہ سے مقامی نوجوانوں نے فطری ردعمل ظاہر کیا۔
پرمانک نے الزام لگایا، ”ریلی میں شریک افراد نے قابلِ اعتراض بیانات دیے تھے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”مقامی نوجوانوں نے ان بیانات پر ردعمل ظاہر کیا ہوگا اور کچھ گڑبڑی ہوئی ہوگی۔ قانون اپنا کام کرے گا۔ پولیس غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے گی اور کارروائی کرے گی۔ تاہم، اس واقعے میں بی جے پی کا کسی بھی طرح کوئی کردار نہیں ہے۔“
ریلی کے دوران بی جے پی اور اے بی وی پی کا ،اے آئی ڈی ایس اوپر حملہ، 40مظاہرین زخمی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments