سوجیت باسو کی ضمانت کی درخواست کلکتہ ہائی کورٹ نے خارج کر دی
سوجیت باسو کو ضمانت نہیں مل سکی۔ ای ڈی کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔ میونسپلٹی میں تقرریوں میں بدعنوانی کے معاملے میں مرکزی تفتیشی ایجنسی نے ریاست کے سابق وزیر کو گرفتار کیا تھا۔ منگل کے روز جسٹس تیرتھنکر گھوش نے اس معاملے میں ان کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔
مرکزی ایجنسی نے 11 مئی کو سوجیت باسو کو گرفتار کیا تھا۔ میونسپلٹی میں تقرریوں میں بدعنوانی کے معاملے کی تحقیقات کے دوران سوجیت باسو پر الزام ہے کہ انہوں نے جنوبی دم دم میونسپلٹی میں غیر قانونی طور پر ملازمت حاصل کرنے والے امیدواروں کے ناموں کی سفارش کی تھی۔
سابق وزیر کی ضمانت کی درخواست پر ابتدائی طور پر جسٹس شبھرا گھوش کی عدالت میں سماعت ہو رہی تھی۔ 17 اگست کو سوجیت کی درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ بعد میں جسٹس شبھرا گھوش نے خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا، جس کے بعد سوجیت کی ضمانت کا معاملہ جسٹس تیرتھنکر گھوش کی عدالت میں منتقل ہو گیا۔ منگل کے روز انہوں نے ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔
اس سے قبل سماعت کے دوران سوجیت کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے دلیل دی تھی کہ ان کے مو¿کل کو ”غیر اخلاقی طور پر“ جیل میں بند رکھا گیا ہے۔
سنگھوی نے کہا تھا، ”میونسپلٹی میں تقرریوں سے متعلق بدعنوانی کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود انہیں جیل میں بند رکھنا غیر اخلاقی ہے۔ ای ڈی اس گرفتاری کو جائز ثابت نہیں کر سکتی۔“
انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ 2024-25 میں سی بی آئی کے مقدمے میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں بھی سوجیت باسو کا نام شامل تھا۔
سوجیت باسو کی ضمانت کی درخواست کلکتہ ہائی کورٹ نے خارج کر دی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments