اب جو بندے ماترم کہے گا وہ میرا دوست ہے : شوبھندو
بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اتوار کے روز کہا کہ ریاست میں ان کی حکومت کو ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قوم پرستی کو فروغ دینے اور ملک کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے کوششیں ابھی مکمل نہیں ہوئی ہیں۔
کولکاتہ کے سنتوش مترا اسکوائر میں درگا پوجا کی تقریبات کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ادھیکاری نے کہا کہ تمام اسکولوں، بشمول مدارس، میں دعائیہ اجتماعات کے دوران ’وندے ماترم‘ کا مکمل ورڑن گانا لازمی قرار دیا گیا ہے، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
انہوں نے کہا، ”دعائیہ اجتماعات کے دوران مکمل وندے ماترم گانا ہوگا۔ اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ قومی گیت گائیں گے، ”وہ میرے دوست ہوں گے۔“
سی پی آئی (ایم) کے رہنما بکاس رنجن بھٹاچاریہ کی رہائش گاہ پر توڑ پھوڑ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھٹاچاریہ کی جانب سے اس واقعے کو ”ہندوتو وادیوں“ کا حملہ قرار دیے جانے پر بظاہر طنز کرتے ہوئے ادھیکاری نے سوال اٹھایا کہ پوری برادری کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔انہوں نے سوال کیا، ”کیا ہم ہندو نہیں ہیں؟ کیا ہم ہندوستان میں نہیں رہتے؟“
وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ ”ٹکڑے ٹکڑے گینگ“ کے ارکان ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ”کشمیر مانگے آزادی“ جیسے نعرے لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بظاہر دہلی میں ایس آئی آر کے خلاف ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے ادھیکاری نے کہا کہ بدامنی پھیلانے میں شامل افراد ”کاکروچ“ اور ”کھٹمل“ ہیں۔
انہوں نے ایسی قوتوں کا مقابلہ کرنے، قوم پرستی کو فروغ دینے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے کوششیں کرنے کی اپیل کی۔
اب جو بندے ماترم کہے گا وہ میرا دوست ہے : شوبھندو...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments