صومالیہ کے شمال مشرقی ساحل کے قریب مسلح قزاقوں نے ایک ایرانی ماہی گیری کی کشتی ہائی جیک کر لی ہے۔ یورپی یونین کی بحری سکیورٹی ایجنسی اور پنٹ لینڈ کے سکیورٹی ذرائع نے سنیچر کے روز واقعے کی تصدیق کی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صومالیہ کے ساحل پر بحری قزاقی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اپریل سے اب تک کم از کم 15 حملے رپورٹ ہو چکے ہیں، جو 2013 کے بعد ایک سال میں سامنے آنے والی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
یورپی یونین کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مطابق ’ازنی‘ نامی ایرانی ماہی گیری کی کشتی کو 29 اکتوبر کی صبح صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ میں بندر بلا اور ہافون کے درمیان ساحلی علاقے سے اغوا کیا گیا۔
پنٹ لینڈ کے سکیورٹی حکام نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آٹھ مسلح افراد نے بیلہ بندرگاہ کے قریب دور دراز ساحلی علاقے میں کشتی پر قبضہ کیا۔
ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق کشتی پر دو صومالی محافظ تعینات تھے، تاہم قزاقوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث وہ مزاحمت نہ کر سکے اور حملہ آوروں نے انھیں قابو کر لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کشتی ساحل کے قریب ماہی گیری میں مصروف تھی، جس کی وجہ سے وہ قزاقوں کا آسان ہدف بن گئی۔
روئٹرز کے مطابق ایک اور سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ دو صومالی محافظوں کے علاوہ کشتی میں عملے کے 21 افراد سوار تھے، تاہم ان کی موجودہ حالت کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
’ازنی‘ جولائی کے بعد صومالیہ کے ساحل سے ہائی جیک ہونے والی تیسری ایرانی ماہی گیری کی کشتی ہے، جس سے خطے میں بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
صومالیہ کے شمال مشرقی ساحل کے قریب مسلح قزاقوں نے ایک ایرانی ماہی گیری کی کشتی ہائی جیک کر لی ہے۔ یورپی یونین کی بحری سکیورٹی ایجنسی اور پنٹ لینڈ کے سکیورٹی ذرائع نے سنیچر کے روز و...
Source: Admin