پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے شدہ مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کیلیے ایک اور مسلم ملک نے غور شروع کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام ملکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، شام خطے کی سلامتی کا اہم حصہ ہے، امن و استحکام کیلیے ہر مشترکہ کوشش کی حمایت کرے گا۔
بحرین میں منامہ ڈائیلاگ کے دوران شامہ وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا کہ خطے کو پہلے سے زیادہ مشترکہ دفاعی نظام کی ضرورت ہے، یمن کی خودمختاری اور امن بحال کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ معاہدے کے رکن ممالک کے نمائندوں کی ایرانی رہنماؤں سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے دو سال سے بھی کم عرصے میں شام پر ہزار سے زیادہ حملے کیے جن میں درجنوں افراد مارے گئے۔
اسعد الشیبانی نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی فورسز ماضی کے معاہدے پر عمل کر کے سابقہ پوزیشن پر واپس جائے، گولان کی پہاڑیاں شام کا حصہ ہیں، اس حوالے سے سلامتی کونسل کی قرارداد واضح ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے شدہ مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کیلیے ایک اور مسلم ملک نے غور شروع کر دیا۔...
Source: Admin