روم : اٹلی کے مختلف شہروں میں مہنگائی، کم اجرتوں اور فوجی اخراجات میں ہوشربا اضافے کے خلاف ملک بھر میں ہزاروں شہری سراپا احتجاج ہیں۔
احتجاجی تحریک میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید شدت آتی جارہی ہے، ملک بھر کے درجنوں شہروں میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔
گراس روٹس یونین ’یونینے سنداکالے دی بازے‘ کی جانب سے 24 گھنٹے کی عام ہڑتال کی کال دی گئی تھی، جس کے تحت ملک کے 40 سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں جس میں بڑی تعداد میں طلبہ، مزدوروں اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر پولیس اور مظاہرین میں شدید چھڑپیں بھی ہوئی پولیس کے لاٹھی چارج سے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مشتعل مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے اجرتوں میں اضافہ کیا جائے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جائے اور شہریوں پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کیا جائے، احتجاج میں اٹلی کے بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات اور جنگی سرگرمیوں کے لیے وسائل مختص کیے جانے کے خلاف بھی آواز بلند کی گئی۔
تورین میں طلبہ اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے سیکیورٹی پولیس حصار کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔
واضح رہے کہ اٹلی میں ہونے والے احتجاج کو یورپ کے دیگر ممالک میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف جاری احتجاجی لہر کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل فرانس، اسپین، بیلجیئم اور البانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک میں بھی شہریوں اور مزدور تنظیموں کی جانب سے مہنگائی، اجرتوں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
روم : اٹلی کے مختلف شہروں میں مہنگائی، کم اجرتوں اور فوجی اخراجات میں ہوشربا اضافے کے خلاف ملک بھر میں ہزاروں شہری سراپا احتجاج ہیں۔...
Source: Admin