جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک کثیر منزلہ عمارت کے منہدم ہونے کے بعد پیر کو دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے 5 ملازمین کو معطل کر دیا گیا۔ لاپرواہی برتنے کے باعث معطل کیے گئے ملازمین میں ساؤتھ زون کے افسران شامل ہیں۔ جن لوگوں پر کارروائی ہوئی ہے ان میں ڈپٹی کمشنر راکیش کمار، سپرنٹنڈنگ انجینئر رنویر سنگھ، ایگزیکٹیو انجنیئر للت کمار گوئل، اسسٹنٹ انجینئر سنیل چوہان اور انجنیئر آشیش کمار شامل ہیں۔ دہلی حکومت نے فوری اثر سے ان افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ حادثہ میں اب تک 7 لوگوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ کئی زخمیوں کا علاج چل رہا ہے، جبکہ ملبے کے نیچے اب بھی کئی لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے آج صبح حادثے والی جگہ کا دوبارہ دورہ کیا اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔ معائنہ کے بعد وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے یقین دلایا کہ لاپرواہی یا کوتاہی کے قصوروار پائے جانے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے ذمہ دار پائے جانے والے ایم سی ڈی افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کا حکم دیا۔
وزیر اعلیٰ دفتر کے مطابق ایسے واقعات کو روکنے اور حفاظتی اصولوں کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے دہلی بھر میں غیر قانونی 5 منزلہ عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ تلاش اور ریسکیو آپریشن رات بھر جاری رہا۔ افسران نے بتایا کہ ملبے کے نیچے اب بھی کئی لوگوں، خاص کر طلبہ کے دبے ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں بحفاظت نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ’ہاسٹل ڈیز‘ نام کی یہ 5 منزلہ عمارت لڑکوں کے پی جی کے طور پر چل رہی تھی اور واقعہ کے وقت کئی طلبہ وہاں رہ رہے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ پی جی کے مالک ہری رام بنسل کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ افسران نے بتایا کہ ہری رام گپتا کو راجستھان کے بھواڑی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ فی الحال آگے کی جانچ جاری ہے۔ واقعہ کے بعد سے ہری رام بنسل کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ لُک آؤٹ نوٹس جاری ہونے کے بعد دہلی پولیس نے ہری رام بنسل کو گرفتار کرنے کے لیے 10 ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔
جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک کثیر منزلہ عمارت کے منہدم ہونے کے بعد پیر کو دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے 5 ملازمین کو معطل کر دیا گیا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments