نئی دہلی: عصمت دری کے معاملے میں قصوروارقراردیئے گئے تہلکہ کے سابق ایڈیٹرترون تیج پال کوسپریم کورٹ نے فی الحال راحت دینے سے انکارکردیا ہے۔ عدالت نے انہیں دوہفتے کے اندرسرینڈرکرنے اورسرینڈرسرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت اب ان کی اپیل پر22 ستمبرکوسماعت کرے گی۔ 4 اگست کوبامبے ہائی کورٹ نے ترون تیج پال کواپنے دفترمیں کام کرنے والی ایک جونیئرخاتون ساتھی کے ساتھ عصمت دری کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے انہیں سرینڈرکرنے کے لئے 4 ہفتے کا وقت دیا تھا۔ اس کے بعد تیج پال نے سپریم کورٹ سے سرینڈرکرنے سے رعایت دینے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے اپنی اپیل زیرالتوا ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے جیل جانے سے فی الحال راحت کی مانگ کی تھی۔
ترون تیج پال کی جانب سے پیش ہوئے سینئروکیل کپل سبل نے عدالت میں کہا کہ یہ واقعہ 2013 کا ہے اورتیج پال تقریباً 6 ماہ کوچھوڑکرپورے عرصے کے دوران ضمانت پررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے سزا سنانے کے ساتھ ہی سزا پرعبوری روک بھی لگا دی تھی۔ کپل سبل نے عدالت کوبتایا کہ ترون تیج پال اب بزرگ شہری ہیں، ان کا خاندان اوردوبیٹیاں ہیں۔ ضمانت پررہنے کے دوران ان کے کسی طرح کے نامناسب رویے کی کوئی شکایت یا رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریق اپنی اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں۔ ان حالات کودیکھتے ہوئے ہی ہائی کورٹ نے سزا پرروک لگائی تھی۔ اس لئے اب سپریم کورٹ سے الگ سے سرینڈرسے استثنیٰ مانگنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے اوران کی اصل اپیل پر براہ راست سماعت کی جانی چاہئے۔ کپل سبل نے یہ بھی کہا کہ اس مرحلے پرکیس کے میرٹ پربحث نہیں ہونی چاہئے، بلکہ صرف اس سوال پرغورکیا جانا چاہئے کہ کیا ترون تیج پال کو سرینڈرکرنے سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
گوا پولیس کی جانب سے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی درخواست کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے سزا پرروک اس لئے لگائی تھی تاکہ تیج پال کوسپریم کورٹ سے رجوع کرنے اوروہاں سرینڈرسے استثنیٰ مانگنے کا موقع مل سکے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بغیراستثنیٰ حاصل کئے براہ راست اپنی اپیل کی سماعت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ تشار مہتا نے کہا کہ کپل سبل نے جس 1970 کے قانون کا حوالہ دیا ہے، وہ ایک عارضی انتظام تھا۔ اب فوجداری مقدمات میں اپیل کا مکمل قانونی طریقہ کارموجود ہے۔ اگرتیج پال کوسرینڈرسے استثنیٰ چاہئے تھا تواس کے لئے الگ درخواست دینا ضروری تھا۔ سالیسٹرجنرل نے مزید کہا کہ ترون تیج پال کوتقریباً 10 سال کی سزا سنائی گئی ہے اورجرم سنگین نوعیت کا ہے۔ ایسے میں انہیں جیل جانے سے استثنیٰ نہیں دیا جانا چاہئے۔
دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد جسٹس آلوک آراڈھے نے کہا کہ انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں درج تمام نکات کا جائزہ لیا ہے۔ اس معاملے میں جرم کی نوعیت اورسزا کی مدت انتہائی اہم ہے۔ عدالت نے ترون تیج پال کی سرینڈرسے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں دوہفتے کے اندرسرینڈرکرنے اورسرینڈرسرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ہدایت دی۔ عدالت اب ان کی اپیل پر22 ستمبرکوسماعت کرے گی۔
عصمت دری کے معاملے میں قصوروارقراردیئے گئے تہلکہ کے سابق ایڈیٹرترون تیج پال کوسپریم کورٹ نے فی الحال راحت دینے سے انکارکردیا ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments