اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی توہینِ عدالت کی درخواست سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراضات کے باعث واپس کر دی ہے۔ یہ درخواست عدالت کے 18 اگست کے اس حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کے الزام میں دائر کی گئی تھی، جس میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین گوہر علی خان نے منگل کو سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 18 اگست کے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے اس پر فوری سماعت کی استدعا کی تھی۔
گوہر علی خان نے کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات کی، جہاں انہیں بتایا گیا کہ درخواست میں کچھ اعتراضات موجود ہیں۔ ان اعتراضات کی وجہ سے توہینِ عدالت کی درخواست کی فائل واپس کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دے گی اور اس کے بعد درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔
پی ٹی آئی نے 22 اگست کو سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ عدالت نے 18 اگست کو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور ان کے اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات کا انتظام کرنے کا واضح حکم دیا تھا، تاہم اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔ حکومت نے عدالت کے فیصلے کو ’امتیازی‘ قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کی استدعا کی ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف مختلف مقدمات میں سزا سنائے جانے کو ان کی جماعت سیاسی انتقام قرار دیتی رہی ہے۔ 2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے برطرف کیے جانے کے بعد ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے، جن میں سرکاری تحائف سے متعلق توشہ خانہ کیس اور مبینہ غیر قانونی نکاح سے متعلق مقدمہ بھی شامل ہے۔
عمران خان کی جیل میں صحت اور حراست کے حالات پر عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک یا سزا سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایلس جِل ایڈورڈز نے عمران خان کو مناسب طبی سہولت نہ ملنے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی۔
انہوں نے پاکستان سے اپیل کی تھی کہ سابق وزیراعظم کو انسانی اور مناسب حالاتِ حراست فراہم کیے جائیں اور انہیں اپنی پسند کے ڈاکٹر سے معائنہ اور علاج کرانے کی اجازت دی جائے۔
ایڈورڈز نے لنکڈ اِن پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ عمران خان تقریباً 33 ماہ سے قریب قریب مکمل تنہائی میں رکھے گئے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کو ایک چھوٹی، بغیر کھڑکی والی کوٹھری میں 24 گھنٹے سی سی ٹی وی نگرانی میں رکھا جاتا ہے اور بعض اوقات مسلسل دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک کسی شخص سے بامعنی رابطے کا موقع نہیں دیا جاتا۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی توہینِ عدالت کی درخواست سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراضات کے باعث واپس کر دی ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments