مشرق وسطیٰ میں پچھلے چھ ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے سٹریٹیجک اہمیت رکھنے والی آبنائے ہرمز بڑی حد تک مفلوج ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اب بھی ہزاروں کی تعداد میں ملاح پھنسے ہوئے ہیں جبکہ اشیائے ضروریہ لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت بھی معمول سے بہت کم ہے اور روزانہ صرف چند جہاز ہی گزرتے ہیں۔
فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور لڑائی چھڑنے کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل عالمی سطح پر ہونے والی تیل اور مائع گیس ایل این جی کی تجارت کا قریباً پانچواں حصہ یہیں سے گزرتا تھا۔
ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے 1400 مربع کلومیٹر کے حصے کو ’خطرناک زون‘ قرار دیا ہے جہاں بارودی سرنگیں موجود ہونے کے بھی خدشات ہیں۔
خبر رساں ادارے نے بحری سفر پر نظر رکھنے والے ادارے کپلر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران کی جانب سے یکم مارچ کو آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد اشیائے ضروریہ لے جانے والے جہازوں کی آمد و رفت روزانہ اوسطاً 10 رہ گئی ہے جبکہ فروری میں یہ تعداد 95 روزانہ تھی۔
جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے بعد بحری آمد و رفت عارضی طور پر بڑھتے ہوئے روزانہ 36 جہازوں تک پہنچ گئی تھی لیکن آٹھ جولائی کو دوبارہ کشیدگی شروع ہونے کے بعد 22 اگست تک یہ تعداد کم ہو کر اوسطاً 15 تک رہ گئی تھی۔
جنگ شروع ہونے سے قبل بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر اس راستے کے ذریعے گزرتے تھے جس کا تعین انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے کیا تھا۔
اب وہاں دو الگ راستے اختیار کیے جا رہے ہیں، ان میں سے ایک راستہ شمال میں ایرانی ساحل کے قریب ہے جس کو ایران نے واحد مںظورشدہ راستہ قرار دے رکھا ہے جبکہ دوسرا راستہ جنوب میں عمان کے ساحل کے قریب جہاں ممکنہ طور پر بارودی سرنگیں ہو سکتی ہیں۔
17 جون سے سات جولائی کے دوران نسبتاً پرسکون رہنے والی صورت حال میں روزانہ اوسطاً نو بحری جہاز ایرانی اور آٹھ عمانی راستے سے گزرے۔ باقی جہاز غیر واضح راستوں یا روایتی آئی ایم او راہداری کے ذریعے گزرتے رہے۔
آٹھ جولائی کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے دو تہائی آمد و رفت ’ڈارک‘ یا نامعلوم ہو گئی جبکہ جنگ سے قبل یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم تھی۔
یہ اعداد و شمار بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کپلر کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں پچھلے چھ ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے سٹریٹیجک اہمیت رکھنے والی آبنائے ہرمز بڑی حد تک مفلوج ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments