نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پیپر لیک معاملے پر احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے 19 سالہ طالب علم ساحل کو اپنے ساتھ میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر طلبہ کے خلاف تشدد کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی میں 20 جولائی کو ہونے والے پرامن احتجاج کے دوران ساحل کو پیلٹ گن سے نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اس کی ایک آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے زخمی طالب علم کی ٹی شرٹ اٹھا کر اس کی کمر اور کندھوں پر موجود زخم بھی میڈیا کو دکھائے اور کہا، ’یہی ہوتی ہے پیلٹ گن۔‘ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ احتجاج کے دوران پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا گیا، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’ان کے چہرے پر پیلٹ گن سے حملہ کیا گیا، جس کے باعث ان کی آنکھ خراب ہو گئی ہے اور انہیں دکھائی دینا بند ہو گیا ہے۔ کئی نوجوانوں کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ میں یقین کے ساتھ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس نوجوان کی آنکھ کی بینائی محفوظ رہ پائے گی یا نہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ساحل دہلی یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور اپنے خاندان کی مالی معاونت کے لیے جز وقتی طور پر گاڑی بھی چلاتا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق ساحل بھی پیپر لیک کے متاثرین میں شامل ہے۔ وہ 2025 کے ایس ایس سی دہلی کانسٹیبل امتحان کے مبینہ پیپر لیک سے متاثر ہوا تھا اور اسے خدشہ ہے کہ امتحان کے انعقاد کے لیے ایک مرتبہ پھر اسی ایجنسی کو ذمہ داری دی گئی ہے، جس کے باعث پیپر لیک ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ساحل سمیت ہزاروں طلبہ اپنے بہتر مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور انصاف کے مطالبے کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے، لیکن انہیں طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر پیلٹ گن چلائی گئی اور ان پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔ کانگریس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ساحل 20 جولائی کو دہلی میں پرامن احتجاج میں شریک تھا اور اب اسے اپنی ایک آنکھ کی مستقل بینائی کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔ پارٹی نے کہا کہ طلبہ کی جائز تشویشات اٹھانے اور حکومت سے جوابدہی طلب کرنے پر ان کے خلاف کارروائی ناقابل قبول ہے۔ کانگریس نے کہا کہ وہ ساحل اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے تمام طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے تعلیمی نظام کے بحران کی علامت بن چکے ہیں اور انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں۔ پہلا، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔ دوسرا، طلبہ کے ساتھ مبینہ بربریت کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اور تیسرا، وزیر اعظم نریندر مودی طلبہ اور ملک سے معافی مانگیں۔ راہل گاندھی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ طلبہ کو ڈرانا، دھمکانا اور ان پر تشدد کرنا بند کرے اور ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے تسلیم کرتے ہوئے انہیں انصاف فراہم کرے۔
Source: Admin
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments